top of page

سائنوسائٹس کے ۴ مرحلے — ایکیوٹ، کرانک، سب ایکیوٹ، اور ایکیوٹ آن کرانک

Writer: Dr. Koralla Raja Meghanadh
Dr. Koralla Raja Meghanadh
18 hours ago
7 min read


سائنوسائٹس کے ۴ مرحلے — ایکیوٹ، کرانک، سب ایکیوٹ، اور ایکیوٹ آن کرانک

سائنوسائٹس کیسے شروع ہوتا ہے؟

کسی کو سائنَسائٹس ہونے کے لیے، پہلے سے کُچھ مسئلے رہنا ضروری ہے، جیسے کہ —

  1. الرجی

  2. سائنَس کی ساختوں میں خرابی، جِیسے سائنَس کے کھُلنے کے راستے اور سائنَس کے ڈرین ہونے کے راستے، جو اِنفیکٹڈ فلوئڈ کو باہر نکالنے کے ذمّے دار ہوتے ہیں۔

  3. پیدائشی طور پر بیکٹیریا کے خلاف کم قوت مدافعت


اوپر بتائی ہوئی کنڈیشنز والے لوگوں کو جب عام وائرل انفیکشن، جیسے عام زکام ہوتا ہے، تو ناک کے اندر کے اسٹرکچرز میں سوجن آ سکتی ہے۔ اس کی وجہ سے سائنَس میں موجود فلوئڈس رُک کر جمع ہونے لگتے ہیں۔ یہ رُکے ہوئے فلوئڈس بیکٹیریا کے لیے جگہ بناتے ہیں، جو سائنَس کی دیواروں میں انفیکشن پیدا کر کے سائنَسائٹس کا سبب بن سکتے ہیں۔ اگر عام زکام کا ڈاکٹر کی نگرانی میں صحیح دواؤں کے ساتھ بروقت علاج کیا جائے، تو سائنَسائٹس ہونے کے چانسز کافی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔


ہمارا آرٹیکل "سائنَسائٹس انفیکشن کے اسباب" پڑھیں، جس میں ہم نے صاف طور پر بتایا ہے کہ اوپر بتائے گئے تینوں عوامل میں سے ہر ایک سائنَسائٹس کا سبب بننے میں کیسے اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔


سائنوسائٹس کے مراحل

سائنَسائٹس کے چار اسٹیج ہوتے ہیں، جو یہ ہیں:

  1. اکیوٹ

  2. سب اکیوٹ

  3. کرانک

  4. ایکیوٹ آن کرانک


سائنَسائٹس ایک ایسی حالت ہے جو مختلف مرحلوں میں آگے بڑھتی ہے۔ یہ اکیوٹ اسٹیج سے شروع ہوتی ہے، پھر سب اکیوٹ اسٹیج میں پہنچتی ہے اور آخر میں کرونک اسٹیج بن جاتی ہے۔ کرونک اسٹیج سب سے زیادہ عرصے تک رہتی ہے اور عام طور پر اس میں علامات ہلکی ہوتی ہیں، لیکن یہ لمبے عرصے تک برقرار رہتی ہیں۔لیکن اگر کسی شخص کی قوتِ مدافعت کمزور ہو جائے یا اسے کوئی اور انفیکشن ہو جائے، تو کرونک اسٹیج زیادہ شدید مرحلے میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس میں سائنَسائٹس کی مزید علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ اس مرحلے کو اکیوٹ آن کرونک سائنَسائٹس کہا جاتا ہے۔


یہاں ایک ٹیبل دیا گیا ہے جس میں سائنَس کے انفیکشن کے مختلف مرحلوں کے بارے میں مختصر سی جانکاری دی گئی ہے۔

مراحل

یہ کب شروع ہوتا ہے؟

دورانیہ

علامات کے بارے میں

اکیوٹ

ناک کے انفیکشن کے 5 دن بعد

تقریبا 10 دن

(ناک انفیکشن کے آغاز سے 5 دن سے 15 دن تک)

پہلے ۵ دن کے ناک کے انفیکشن کے مقابلے میں علامات زیادہ شدید ہو جاتی ہیں۔

سب اکیوٹ

ایکیوٹ سائنوسائٹس کے مرحلے کے بعد

تقریبا 30 دن

(ناک انفیکشن کے آغاز سے 15 ویں دن سے 45 دن تک)

علامتیں کم شدید ہو جاتی ہیں، اور علامتوں کی تعداد بھی کم ہو سکتی ہے۔

کرانک

سب اکیوٹ سائنوسائٹس کے مرحلے کے بعد

غیر معیّن مدّت (ناک کی انفیکشن شروع ہونے کے ۴۵ دن بعد سے)

بہت کم یا نہ ہونے کے برابر علامات، جن کی شدت بھی بہت کم ہو۔

ایکیوٹ آن کرانک

جب بھی کرونک سائنَسائٹس والے بندے کی اِمیونٹی کمزور پڑ جاتی ہے۔

جب تک اِمیونٹی کم رہتی، تب تک رہتا ہے۔

بہت شدید علامات جو روزمرہ کی زندگی میں خلل ڈال سکتی ہیں۔


اکیوٹ سائنسائٹس

جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے، زیادہ تر سائنَس کے انفیکشن عام وائرل انفیکشن، جیسے نزلہ زکام، سے شروع ہوتے ہیں۔ یہ وائرل انفیکشن عموماً 5 سے 7 دن میں ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اس دوران ناک کے اندر کے حصوں میں سوجن آنے کی وجہ سے فلوئڈ جمع ہو کر رُکنا شروع ہو سکتا ہے، اور اِن فلوئڈز میں بیکٹیریا بڑھنے لگتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا سائنَس کی اندرونی جلد کو متاثر کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں سائنَسائٹس ہو سکتا ہے۔


سائنَسائٹس کی وجہ سے نزلہ زکام کی عام علامات زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ سائنَس انفیکشن کی یہ علامات ہو سکتی ہیں-

  1. ناک بند ہونا

  2. ناک بہنا

  3. سر درد

  4. بخار

  5. سونگھنے کی حس ختم ہونا

  6. آنکھوں میں سوجن یا لالی ہونا

  7. ناک کے پیچھے سے گلے میں بلغم آنا

  8. بار بار کھانسی کے دورے آنا

عام نزلہ زکام کے برخلاف، اِن علامات کی شدت کی وجہ سے مریض کی روزمرہ کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ اِن علامات کا بڑھتے جانا اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انفیکشن وائرل سے بیكٹیریل میں تبدیل ہو رہا ہے، یعنی انفیکشن ایکيوٹ بیكٹیریل سائنَسائٹس یا ایکيوٹ سائنَسائٹس میں تبدیل ہو رہا ہے۔


تو، صفر سے پانچ دن تک کی علامات فلو کی تھیں، اور چھ سے پندرہ دن تک کی علامات ایکیوٹ سائنوسائٹس کی تھیں۔ اگر مریض پندرہ دن کے اندر پابندی سے صحیح علاج کرواتا ہے، تو اس سائنَسائٹس کے ٹھیک ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اور ساری علامات ختم ہو جانی چاہئیں۔ اگر ایکیوٹ سائنَسائٹس کا علاج ادھورا رہ جائے، تو علامات کی شدت کم ہو جائے گی۔


ایکیوٹ سائنَسائٹس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لیے، یہ بلاگ دیکھ لیں۔


سب اکیوٹ سائنسائٹس

سب ایکیوٹ سائنَسائٹس ایک ایسا اسٹیج ہے جو تب ہو سکتا ہے جب ایکیوٹ سائنَسائٹس کا علاج ادھورا رہ جائے یا بالکل علاج نہ ہو۔ سب ایکیوٹ سائنَسائٹس تقریباً ایک مہینہ تک رہتا ہے، یعنی انفیکشن کے 15ویں دن سے 45ویں دن تک۔


اگرچہ علامات میں کمی آنے سے یہ غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ بیماری کم ہو گئی ہے، لیکن اس اسٹیج پر بیماری کے کرانک ہونے کا چانس بڑھ جاتا ہے۔ اس اسٹیج کے شروع ہونے کے بعد سے ڈاکٹر علاج کے ایک حصے کے طور پر معمولی سائنَس سرجری کرنے کا مشورہ دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایکیوٹ اسٹیج کے مقابلے میں تشخیص کے لیے کیے جانے والے ٹیسٹوں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے۔


ڈاکٹروں اور آن لائن آرٹیکلز میں اکثر سائنَسائٹس کے ایکیوٹ اور سب ایکیوٹ اسٹیجز کو ایک ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان دونوں اسٹیجز میں بیماری کی تشخیص اور علاج کے طریقوں میں کافی فرق ہوتا ہے۔ اس لیے ایکیوٹ اور سب ایکیوٹ سائنَس انفیکشن کے درمیان فرق کو سمجھنا، اس بیماری کو صحیح طریقے سے کنٹرول کرنے اور مکمل طور پر ٹھیک کرنے کے لیے بہت اہم ہے۔


سب اکیوٹ سائنَسائٹس کے بارے میں مزید جاننے کے لیے۔


کرانک سائنوسائٹس

سب اکیوٹ سائنَسائٹس کے 30 دن بعد، یعنی انفیکشن کے 45 دن بعد، یہ کرونک سائنَسائٹس میں بدل جاتا ہے۔ کرونک سائنَسائٹس میں، علامات کی تعداد ایک یا دو تک کم ہو جاتی ہے، اُن کی شدت بھی کم ہوتی ہے اور مریض کو بالکل زیادہ تکلیف نہیں دیتی۔


یہاں بیکٹیریا اور اِمیونٹی کے بیچ ایک توازن بن جاتا ہے۔ علامات صرف کم ہوتی ہیں، جس سے مریض کو لگتا ہے کہ بیماری ٹھیک ہو رہی ہے۔ انفیکشن اور اِمیونٹی کے بیچ ایک سمجھوتہ ہو جاتا ہے، لیکن اندر سے بیماری کم نہیں ہوتی۔


علاماتِ بیماری کم ہونے کے بعد مریضوں کو یہ غلط خیال ہونے لگتا ہے کہ سائنَسائٹس قابو میں آ گئی ہے، اور وہ موجودہ علامات کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ لیکن اندر سے انفیکشن کم نہیں ہوا ہوتا، اور یہ انفیکشن وائس باکس، کانوں اور پھیپھڑوں تک پھیلنے کا خطرہ رہتا ہے۔


آپ یہاں کرانک سائنوسائٹس کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں۔


ایکیوٹ آن کرانک سائنسائٹس

جب بھی کسی کرانک سائنَسائٹس کے مریض کو ٹھنڈے موسم میں جانا پڑتا ہے، تو ناک کی اندرونی جھلی ہلکی سی سوج جاتی ہے، جس سے سائنَسائٹس کے دوسرے عوامل کے ساتھ مسئلہ اور بڑھ جاتا ہے۔ پہلے سے ہی کچھ حد تک بند اوپننگس یا ڈرینیج کے راستے مزید بند ہو جاتے ہیں یا پوری طرح بلاک ہو جاتے ہیں۔ جب یہ راستے پوری طرح بند ہو جاتے ہیں، تو بیکٹیریا زیادہ تیزی سے بڑھنے لگتے ہیں اور علامات بھی بڑھ جاتی ہیں، بالکل ایکیوٹ سائنَسائٹس کی طرح۔ اس مرحلے کو "ایکیوٹ آن کرانک" سائنَسائٹس کہا جاتا ہے۔ ایکویٹ آن کرونک سائنَسائٹس میں علامات کی تعداد اور شدت، دونوں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ مریض کو نئی علامات بھی محسوس ہو سکتی ہیں۔


یہ اسٹیج اُس وقت ہو سکتا ہے جب بھی کوئی کرانک مریض ٹھنڈے یا دھول والے ماحول میں چلا جائے، یا اُس کو دوبارہ کوئی وائرل انفیکشن ہو جائے۔


بہت سے لوگ ایکیوٹ آن کرانک سائنسائٹس کو آئس کریم یا کولڈ ڈرنکس جیسی چیزوں سے جوڑتے ہیں، لیکن یہ زیادہ تر ماحول یا وائرل انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے، کھانے پینے کی چیزوں کی وجہ سے نہیں۔


ایکیوٹ آن کرانک سائنسائٹس کے بارے میں مزید جاننے کے لیے، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔


تحریر کردہ


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سائنوس انفیکشن کے مراحل کیا ہیں؟

سائنَسائٹس کے چار اسٹیجز ہوتے ہیں: ایکیوٹ، سب ایکیوٹ، کرونک، اور ایکیوٹ آن کرونک۔


سائنَسائٹس اور ایکیوٹ سائنَسائٹس میں کیا فرق ہے؟

سائنَسائٹس اور ایکیوٹ سائنَسائٹس میں مین فرق یہ ہے کہ ایکیوٹ سائنَسائٹس، سائنَسائٹس کا صرف ایک اسٹیج ہے۔ ایکیوٹ سائنَسائٹس پہلا اسٹیج ہوتا ہے اور عام طور پر پہلے 15 دن تک رہتا ہے۔

ایکیوٹ کا مطلب بہت زیادہ شدید ہوتا ہے، اس لیے ایکیوٹ اسٹیج میں آگے آنے والے اسٹیجز کے مقابلے میں علامات کی تعداد اور شدت زیادہ ہوتی ہے۔ اگر صحیح طریقے سے علاج نہ کیا جائے تو ایکیوٹ سائنَسائٹس آگے بڑھ کر سب ایکیوٹ سائنَسائٹس بن جاتا ہے، جو تقریباً ایک مہینے تک رہتا ہے۔ اس کے بعد یہ کرونک سائنَسائٹس میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ سب ایکیوٹ اور کرونک، دونوں اسٹیجز میں علامات کی تعداد اور شدت آہستہ آہستہ کم ہوتی جاتی ہے۔

لیکن اگر کسی کرونک سائنَسائٹس کے مریض کو ٹھنڈے موسم کا سامنا ہو جائے یا دوبارہ کوئی وائرل انفیکشن ہو جائے، تو یہ کرونک سائنَسائٹس ایک ایسے اسٹیج میں جا سکتا ہے جسے "ایکیوٹ آن کرونک سائنَسائٹس" کہتے ہیں۔ اس میں علامات دوبارہ بڑھ جاتی ہیں، ایکیوٹ سائنَسائٹس کی طرح یا کبھی اس سے بھی زیادہ۔


سائنَسائٹس کے کون سے اسٹیج میں ہیں، یہ جاننا بہت ضروری ہے، کیوں کہ اسی کے حساب سے تشخیص اور علاج کیا جائے گا۔


سب سے طویل سائنوس انفیکشن کیا ہے؟

کرونک سائنَسائٹس سب سے زیادہ عرصے تک رہنے والا سائنَس انفیکشن ہے۔ ہمارے آتھر، ڈاکٹر کے۔ آر۔ میگھنادھ نے ایسے مریض دیکھے ہیں جن کو کرونک سائنَسائٹس 40 سال تک رہا ہے۔ لوگوں کو کئی دہوں تک کرونک سائنَسائٹس سے پریشان رہنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ جب بھی سائنَس انفیکشن 45 دن سے زیادہ تک رہتا ہے تو وہ کرونک سائنَسائٹس میں بدل جاتا ہے۔ کرونک سائنَسائٹس اُس وقت ہوتا ہے جب ایکیوٹ اور سب ایکیوٹ سائنَسائٹس کا علاج نہ کیا جائے یا ادھورا علاج کیا جائے۔ اگرچیکہ کرونک سائنَسائٹس کئی مہینوں یا یہاں تک کہ کئی سالوں تک رہ سکتا ہے، لیکن صحیح علاج سے ہم اس کو پوری طرح ٹھیک کر سکتے ہیں۔


سائنَسائٹس میں سب سے عام کونسا ہوتا ہے؟

ایکیوٹ بیکٹیریل سائنَسائٹس سب سے عام قسم ہے۔ زیادہ تر کیسز میں یہ آگے کے اسٹیجز تک نہیں بڑھتا اور خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ یہ وائرل رائنائٹس یا عام نزلہ زکام کے بعد ہوتا ہے۔

 
 
 
  • Facebook
  • Instagram
  • LinkedIn
  • Youtube
பதிவு செய்து, உடனுக்குடன் தகவல்களைப் பெறுங்கள்!
சமர்ப்பித்தமைக்கு நன்றி!

office.medyblog@gmail.com என்ற முகவரியில் எங்களைத் தொடர்பு கொள்ளவும்.

© 2021 - 2022 Anaghasri Technologies and Solutions Pvt. Ltd. அனைத்து உரிமைகளும் பாதுகாக்கப்பட்டவை.
Medyblog மருத்துவ ஆலோசனை, நோய் கண்டறிதல் அல்லது சிகிச்சையை வழங்குவதில்லை.

bottom of page