top of page

سائنس انفیکشن کے علامات: اِن کو کیسے پہچانیں؟

Writer: Dr. Koralla Raja Meghanadh
Dr. Koralla Raja Meghanadh
17 hours ago
7 min read

سائنوسائٹس انفیکشن زیادہ تر عام زکام سے شروع ہوتا ہے، جو عام طور پر سات دن تک رہنا چاہیے، اُس کے بعد اس کی علامات خود ختم ہو جاتی ہیں۔ لیکن جن لوگوں کو کچھ پہلے سے موجود بیماریاں ہوتی ہیں (سائنوسائٹس کی وجوہات کے بارے میں یہاں پڑھیں)، اُن میں یہ آگے چل کر سائنوسائٹس میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ عام زکام کی علامات کا بڑھتے جانا اس تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

سائنوس کی علامات، سائنوسائٹس کی علامات، سائنوس انفیکشن کی علامات، سائنوس کے مسائل، شدید سائنوسائٹس، دائمی سائنوسائٹس، سائنوس انفیکشن

ہم سائنسائٹسکے علامات کو اِس طرح گِن سکتے ہیں:


آنکھوں میں نظر آنے والے نایاب سائنَس انفیکشن کے علامات

کبھی کبھار، سائنَس میں ہونے والا شدید انفیکشن، آنکھوں کے قریب ہونے کی وجہ سے آنکھوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

  1. آنکھ کا لال ہونا

  2. آنکھ میں پانی آنا


سائنَس انفیکشن کی علامتیں اور الگ الگ اسٹیجز میں اُن کا برتاؤ

ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایکیوٹ سائنَسائٹس میں ہمیں سائنَس انفیکشن کی دو سے چار علامتیں نظر آتی ہیں۔ البتہ، کرونک سائنَسائٹس میں آپ کو سائنَس انفیکشن کی صرف ایک یا دو علامات ہی نظر آئیں گی۔ کرونک سائنَسائٹس میں انفیکشن کافی عرصے تک رہتا ہے، اور بیماری اور جسم کے درمیان ایک طرح کا توازن بن جاتا ہے، جس کی وجہ سے شکایات کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ یہ بیلنس اُس وقت بنتا ہے جب جسم انفیکشن کے ساتھ ایڈجسٹ ہو جاتا ہے اور اُس کو کنٹرول کرنا سیکھ لیتا ہے۔ اس لیے ایکیوٹ اور کرونک سائنَسائٹس کے درمیان منتقلی کے دوران شکایتیں آہستہ آہستہ کم ہوتی جاتی ہیں۔ کرونک کیسز میں مریض کو کبھی صرف ایک ہی شکایت رہ جاتی ہے، جیسے ناک کے پچھلے حصے سے گلے میں بلغم آنا اور بار بار گلا صاف کرنا، یا صرف ناک بند رہنا۔ جب ہم ایسے مریضوں سے بات کرتے ہیں تو وہ یہ بات مانتے ہیں کہ بیماری کے ایک مرحلے میں اُن کو کئی طرح کی علامات تھیں، جو ایکیوٹ سائنَسائٹس کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ علامات کی تعداد آہستہ آہستہ کم ہو کر ایک یا دو رہ جاتی ہیں۔ لیکن ہر کرونک کیس میں کبھی نہ کبھی ایکیوٹ ایکسیربیشن ضرور ہو سکتا ہے۔ یعنی جب بیماری اور جسم کے درمیان جو بیلنس ہے اُس میں گڑبڑ ہوتی ہے تو کرونک سائنَسائٹس دوبارہ ایکیوٹ ہو سکتا ہے۔ اُس وقت سائنَس میں انفیکشن بڑھ جاتا ہے اور مریض کو زیادہ سے زیادہ شکایتیں ہونے لگتی ہیں۔ پھر دوا لینے کے بعد یا جسم کی قوتِ مدافعت بڑھنے پر بیماری دوبارہ کرونک حالت میں آ جاتی ہے۔ اس حالت کو“ایکیوٹ آن کرونک سائنَسائٹس” کہا جاتا ہے۔



یہ سمجھنے کے لیے کہ سائنوس کا انفیکشن کیسے ہوتا ہے، سائنوس کیا ہے مضمون کا "سائنس کے مسائل" کا حصہ تفصیل سے پڑھیں۔


سائنوسائٹس میں ایک خاص سِمٹم کیوں آتا ہے؟

سائنوس انفیکشن میں ناک بہنا

جب سائنوس میں بیکٹیریل، وائرل یا فنگل انفیکشن ہوتا ہے، تو سائنوس معمول سے زیادہ سیال خارج کرتے ہیں۔ یہ سیال ناک سے نکلتے ہیں۔


سائنوسائٹس کی وجہ سے ناک بند ہونا یا ناک بھری ہونا

  1. سائنَس انفیکشن کی وجہ سے نکلنے والے سیکریشنز، سامنے کی ایک دوسرے سے ملتی ہوئی دیواروں کو چپکا سکتے ہیں اور ایئر وے کو بلاک کر سکتے ہیں۔

  2. بار بار انفیکشن ہونے یا شدید انفیکشن کی وجہ سے ناک کی دیواروں میں سوجن آجاتی ہے۔ یہ سوجن سانس لینے کی نالی کو تنگ کر سکتی ہے۔


سائنوسائٹس سر درد

سائنوسائٹس میں، سائنَس کے اندر فلوئڈ جمع ہو کے رُک جاتا ہے، حالانکہ سائنَس ایسی جگہ ہے جو عام طور پر ہوا سے بھری رہنی چاہیے۔ اس کی وجہ سے فلوئڈ زیادہ جمع ہونے لگتا ہے اور سائنَس کی گنجائش سے بھی بڑھ جاتا ہے، جس کے باعث درد یا سر درد ہو سکتا ہے۔ کبھی کبھی اگر سائنَس کا اوپننگ بند ہو جائے تو سائنَس کے اندر کی ہوا جذب ہو جاتی ہے۔ اس سے اندر نیگیٹو پریشر بن جاتا ہے، جس کی وجہ سے سر درد ہونے لگتا ہے۔


چہرے کا درد

آنکھوں کے درمیان، اوپر اور نیچے درد ہوگا، اور کبھی کبھی سر کے اوپر بھی درد ہوسکتا ہے۔ یہ درد مسلسل رہے گا اور ہلکا ہلکا درد ہوتا رہے گا۔


گلے میں بلغم یا گلے کو کثرت سے صاف کرنے کی ضرورت

بلغم سائنَس سے نکل کے ناک میں آتا، پھر ناک کے پچھلے حصے میں جاتا اور وہاں سے گلے میں پھسل جاتا۔ اس میں سے زیادہ تر کھانے کی نالی کے ذریعے پیٹ میں چلا جاتا۔ لیکن تھوڑا سا حصہ وائس باکس میں چلا جاتا، جس کی وجہ سے بات کرتے وقت بار بار گلا صاف کرنے کا دل کرتا۔


بار بار گلے میں خراش اور گلے میں درد

متاثرہ سائنَسز سے نکلنے والے فلوئڈ میں ٹاکسنز، بیکٹیریا اور وائرس رہ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ فلوئڈ گلے سے ہو کر گزرتا ہے اور آخر میں گلے میں بھی انفیکشن کر سکتا ہے۔


بار بار کھانسی کے دورے آنا

سائنس سے نکلنے والے فلوئڈ کی وجہ سے گلے میں جلن ہو سکدی، اور اس کی وجہ سے کھانسی بھی آ سکدی۔


ناک کی الرجی اور سائنَس کی علامات میں ٹکراؤ

قدرتاً، ناک کی الرجی اور سائنوسائٹس میں تقریباً ایک جیسے ہی علامات ہوتے ہیں۔ تو ان دونوں میں فرق معلوم کرنے کا ایک طریقہ الرجی ٹیسٹنگ اور سی ٹی اسکین کرنا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر سادہ الرجی ہے تو الرجی کی دوا دے کر دیکھ سکتے ہیں۔ اگر الرجی کی دوا لینے کے بعد ۴ سے ۵ دن کے اندر بہت اچھا ریسپانس آجاتا ہے، تو ہم جلدی سے سائنوسائٹس کو خارج کر سکتے ہیں۔


فنگل سائنس انفیکشن کے کیا علامات ہیں؟

فنگل سائنس انفیکشن کی علامات، فنگل سائنسائٹس کی قسم کے حساب سے الگ الگ ہوتی ہیں۔ سائنسائٹس میں فنگل انفیکشن کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔

1. نان اِن ویسیو فنگل سائنسائٹس کی علامات

  • ناک بہنا

  • ناک بند ہونا

  • سر درد

  • چہرے میں درد

  • ناک سے بلغم گلے کے پیچھے کی طرف بہتا رہنا، جس کی وجہ سے بار بار گلا صاف کرنا پڑتا ہے۔

  • گلے میں درد

  • بار بار کھانسی کے دورے پڑنا


نان اِن ویسیو فنگل سائنس انفیکشن کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔

  1. الرجک فنگل رائنوسائنوسائٹس

  2. فنگل بال


نان اِن ویسیو فنگل سائنسائٹس کے سمپٹمس، بیکٹیریل سائنس انفیکشن جیسے ہی رہتے۔ لیکن، اِس کے سائنز اتنے سیریس نئیں ہوتے اور آسانی سے پہچانے بھی نئیں جاتے۔ زیادہ تر کیسز میں، اگر سمپٹمس موجود بھی رہیں تو زیادہ امکان یہی رہتا کہ وہ بیکٹیریل سائنس انفیکشن کی وجہ سے ہیں، جو دوسرے سائنسز میں بھی ہو سکتے۔


الرجک فنگل رائنوسائنوسائٹس میں، سمپٹمس کے بجائے ہمارا جسم فنگس کے خلاف الرجک ری ایکشن دیتا ہے، جس سے ہمیں انفیکشن کا پتہ چلنے میں مدد ملتی ہے۔


کبھی کبھی مریض کسی اور وجہ سے سی ٹی اسکین کرواتے ہیں، اور اُن کے سائنوس میں فنگل بال نکل آتا ہے، جبکہ اُن کو ایک بھی علامت کا پتا نہیں ہوتا۔


2. اِنویسیو فنگل سائنس اِنفیکشن کی علامتیں

  • آنکھ، ناک، دانت یا گال میں درد یا سوجننظر میں خرابی – ڈبل ویژن یا نظر کمزور ہونا

  • جب انفیکشن جبڑے کی ہڈی تک پھیل جاتا ہے تو دانت ہلنے لگتے ہیں۔

  • گال میں حس کا ختم ہوجانا

  • چہرے کی سوجن اگر جلد تک پھیل جائے — ایک نایاب حالت

  • جب یہ دماغ تک پھیل جاتا ہے تو دماغ کے جس خاص حصے سے جسم کا کوئی حصہ کنٹرول ہوتا ہے، اُس جسم کے حصے پر اثر پڑ سکتا ہے۔


3۔ فُلمننٹ سائنوسائٹس کی علامات

شروع کے مرحلوں میں، علامتیں یہ ہیں۔

  • بند ناک

  • ناک میں شدید درد

  • دانت میں شدید درد

  • آنکھوں میں شدید درد

بعد میں علامات یوں ہوتی ہیں۔

  • ناک سے پانی آنا

  • ڈبل ویژن

  • نظر کمزور ہونا

  • آنکھ، ناک یا گال کی سوجن

  • آنکھ میں پانی آنا ۔

  • آنکھ میں لالی

اگر آپ غور سے دیکھیں تو اِنویسیو اور فُلمننٹ کے علامات ایک جیسے ہی ہوتے ہیں، لیکن علامات ظاہر ہونے کا وقت دیکھ کر ڈاکٹر کے لیے دونوں میں فرق کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ فُلمننٹ اِنویسیو فنگل سائنسائٹس چند ہفتوں کے اندر دماغ تک پہنچ سکتی ہے اور مریض کی جان لے سکتی ہے، جبکہ اِنویسیو آہستہ آہستہ پھیلتی ہے اور مریض کی جان لینے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔


تحریر کردہ


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا سائنوسائٹس آنکھوں کو متاثر کرتا ہے؟

ہاں، سائنوسائٹس آنکھوں کو بھی افیکٹ کر سکتا ہے۔


جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے، سائنسائٹس کے نایاب علامات میں آنکھوں سے پانی آنا اور آنکھوں کا لال ہونا شامل ہے۔


اِن علامتوں کے علاوہ، ایکیوٹ سائنوسائٹس اور "ایکیوٹ آن کرونک" سائنوسائٹس کی وجہ سے آنکھوں میں نایاب پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں، جنہیں آربیٹل سیلولائٹس اور آربیٹل ایبسس کہتے ہیں۔


اس پیچیدگی کے نتیجے میں ہو سکتا ہے

  • آنکھ میں درد

  • آنکھ میں سوجن

  • نظر کا نقصان

  • آنکھ کی حرکت میں رکاوٹ

  • آنکھ کی نَظَر والی نس کو نقصان

پیچیدگیوں کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لیے، آپ ہمارا آرٹیکل پڑھ سکتے۔


مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ مجھے سائنسائٹس ہے؟

اگر آپ کو شک ہے کہ آپ کو سائنسائٹس ہے، تو کچھ اہم علامات پر دھیان دیں، جیسے ناک بہنا، چہرے میں درد، سر درد، ناک بند ہونا، گاڑھا بلغم آنا، کھانسی، گلے میں درد، اور بار بار گلا صاف کرنے کی ضرورت محسوس ہونا۔ اگر آپ کو ان میں سے ایک یا ایک سے زیادہ علامات محسوس ہوئیں، تو صحیح تشخیص کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔


سائنَس کے سر میں درد کو کیا متحرک کرتا ہے؟

سائنس ہیڈیک تب ہوتا ہے جب سائنسز میں فلوئڈ جمع ہو جاتا، جبکہ عام طور پہ سائنسز ہوا سے بھرے ہوئے خانے ہوتے۔ یہ فلوئڈ جمع ہونے سے اندر پریشر بڑھ جاتا اور درد ہونے لگتا۔

فلوئڈ نہ بھی ہو تو، بلاک سائنس کی وجہ سے ہیڈیک ہو سکتا۔ ایسا اس لیے کہ اندر کی ہوا جذب ہو جاتی، جس سے نیگیٹو پریشر بن جاتا اور درد ہونے لگتا۔

 
 
 
  • Facebook
  • Instagram
  • LinkedIn
  • Youtube
SIGN UP AND STAY UPDATED!
Thanks for submitting!

© 2021 - 2022 Anaghasri Technologies and Solutions Pvt. Ltd. All rights reserved.

Medyblog does not provide medical advice, diagnosis, or treatment.

bottom of page