top of page

سائنوس کا انفیکشن خطرناک ہے کیا؟

Writer: Dr. Koralla Raja Meghanadh
Dr. Koralla Raja Meghanadh
18 hours ago
6 min read

پہلے زمانے میں، جب اینڈوسکوپک سائنس سرجری اور سی ٹی اسکین نہیں تھے، تو مریض کو مارنے کا سب سے آسان طریقہ سائنس کی سرجری کرنا تھا۔ یہ الفاظ ڈاکٹر ایچ۔ پی۔ موشر نے 1929 میں کہے تھے۔

سرجن کے لیے مریض کو مارنے کا سب سے آسان طریقہ سائنَس کا آپریشن کرتے وقت ہے۔
سائنوس کا انفیکشن خطرناک ہے کیا؟

اللہ کا شکر ہے کہ ٹیکنالوجی میں ہوئی ترقی اور اینڈوسکوپس، لیزرز اور نیویگیشن سسٹمز جیسی ایجادات نے سرجری کو انتہائی محفوظ بنا دیا ہے۔ یہاں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ہمارے جسم میں سائنَسز ایک بہت ہی اہم اور نازک جگہ پر موجود رہتے ہیں۔


سائنس کی بیماریوں کی جگہ کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔


سائنس انفیکشنز، جن کو میڈیکل زبان میں سائنسائٹس کہا جاتا ہے، دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو ہونے والی ایک عام تکلیف ہے۔ زیادہ تر کیسز ہلکے ہوتے ہیں اور خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں، لیکن کچھ سائنس انفیکشنز زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں یا وقت کے ساتھ سنگین بن سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔


سائنس انفیکشن خطرناک کیوں ہوتا ہے؟

سائنَس اِنفیکشن، اگرچہ زیادہ تر کیسز میں ہلکا ہی رہتا ہے، لیکن اگر اِنفیکشن ایک حد سے زیادہ بڑھ جائے یا اِمیونٹی کمزور ہو جائے، تو سائنَس اِنفیکشن کا اثر خطرناک ہو سکتا ہے۔ سائنَس آنکھوں اور دماغ کے بہت قریب ہوتے ہیں۔ ایسے میں ہونے والا نقصان کبھی کبھی ناقابلِ واپسی بھی ہو سکتا ہے۔


میوکورمائکوسس، یا بلیک فنگس، ایک بہت ہی نایاب قسم کا سائنس کا فنگل انفیکشن ہے، جس میں فنگس خون کی نالیوں کے ذریعے بہت تیزی سے پھیلتا ہے۔ اگر بلیک فنگس کا علاج نہ کیا جائے، تو چند ہفتوں کے اندر فنگس دماغ تک پھیل سکتا ہے، جس کی وجہ سے موت بھی ہو سکتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سائنس دماغ کے کتنے قریب ہیں۔ شکر ہے کہ زیادہ تر سائنس کی بیماریوں کا پھیلاؤ میوکورمائکوسس کے مقابلے میں بہت آہستہ ہوتا ہے۔


ممکنہ خطرناک پیچیدگیاں

پیچیدگیاں شاذ و نادر ہی ہوتی ہیں، لیکن سائنَسائٹس کے ہر مرحلے میں ہو سکتی ہیں، جس میں لمبے عرصے سے چلنے والی کرانک اور ایکیوٹ سائنَسائٹس بھی شامل ہیں۔


ایکیوٹ سائنَسائٹس کی پیچیدگیاں

ایکيوٹ سائنَسائٹس کی پیچیدگیاں، کرونک سائنَسائٹس کے مقابلے میں کم ہوتی ہیں، لیکن زیادہ سنگین ہو سکتی ہیں۔ ایکيوٹ سائنَسائٹس کی پیچیدگیاں اُس وقت پیدا ہو سکتی ہیں جب سادہ سی وجوہات، جیسے اسٹریس، کی وجہ سے جسم کی قوتِ مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے۔ ایسی پیچیدگیوں میں فوری توجہ دینا ضروری ہے۔

  1. آنکھوں میں انفیکشن کی وجہ سے ہونے والی آربیٹل سیلولائٹس اور آربیٹل ایبسیس

  2. دماغ میں ہونے والی پیچیدگیاں جیسے میننجائٹس اور اینسیفلائٹس


بے ٹالے ٹینشن کی وجہ سے ایکیوٹ سائنَسائٹس کی پیچیدگیاں
امتحانات سے سائنَس کی تکالیف بڑھ سکتی ہیں

ایسے کئی کیسز سامنے آئے ہیں جہاں خاص طور پر اسٹوڈنٹس اپنے امتحانات ختم ہونے کے بعد ایکیوٹ سائنَسائٹس کی پیچیدگیوں کے ساتھ آتے ہیں، خاص طور پر آربیٹل سیلولائٹس اور آربیٹل ایبسس کے کیسز۔


اگر وہ وقت پر آ جائیں تو آنکھ کو بچایا جا سکتا ہے، ورنہ آنکھ کے ضائع ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔


حادثہ ہونے والی پیچیدگیاں

اوپر دی گئی مثال کے برعکس، ایک کیس میں ایک آدمی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور اس کو کئی جگہ فریکچر ہوئے تھے۔ اس ایکسیڈنٹ کی وجہ سے جو اسٹریس ہوا، اُس کے نتیجے میں آربیٹل سیلولائٹس ہو گیا۔


کرونک سائنَسائٹس کی پیچیدگیاں

اگرچہ ای پیچیدگیاں مستقل نقصان کر سکتی ہیں، لیکن ای آہستہ آہستہ بڑھتی ہیں، جس کی وجہ سے مریض اِن پیچیدگیوں کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔

  1. لارینجائٹس (وائس باکس انفیکشن)

  2. برونکائٹس اور نمونیا (اگر انفیکشن پھیپھڑوں میں پھیل جائے)

  3. اوٹائٹس میڈیا (درمیانی کان کا انفیکشن)

سائنَسائٹس کا پھیپھڑوں تک پھیل جانا اور دمہ بن جانا عام بات ہے۔ دمہ ایسی بیماری ہے جو ٹھیک نہیں ہوتی، بس اسے کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے۔ کان کے انفیکشن کا علاج نہ کرائیں تو بہرہ پن یا بڑی سرجری کی نوبت آ سکتی ہے۔


لوگ سائنوسائٹس کو ہلکے سے کیوں لیتے ہیں؟

یہ آہستہ آہستہ بڑھنے والی بیماری کی وجہ سے سائنَسائٹس کے بارے میں لوگوں میں بہت زیادہ بے خبری پائی جاتی ہے۔ زیادہ تر لوگ اسے عام نزلہ زکام کا لمبا چلنے والا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ سائنَس انفیکشن ایک خطرناک بیماری ہے اور اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔ لیکن عام لوگ اسے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے، کیونکہ زیادہ تر معاملات میں کسی نہ کسی طرح جسم اسے کافی لمبے عرصے تک، اور کبھی کبھی کئی دہائیوں تک بھی، سنبھال لیتا ہے۔


سائنَس کی بیماری والے 95٪ مریضوں میں ہمارا جسم بغیر ڈاکٹر کی مدد کے خود ہی ٹھیک ہو جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 1٪ مریضوں میں وقت کے ساتھ بیماری اتنی زیادہ بڑھ سکتی ہے کہ ڈاکٹر بھی زیادہ مدد نہیں کر پاتے۔ لیکن باقی 4٪ مریضوں میں ڈاکٹر کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کا کام یہ پہچاننا ہوتا ہے کہ مریض اِن تینوں میں سے کس زمرے میں آتا ہے اور اُس کے حساب سے علاج کرنا۔ 95٪ مریضوں کو ہلکا اور محتاط علاج دیا جاتا ہے، 4٪ مریضوں کو زیادہ مؤثر اور سخت علاج کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ باقی 1٪ مریضوں کا علاج نہیں کیا جاتا۔ 95٪ مریض خود ہی ٹھیک ہو سکتے ہیں، اسی وجہ سے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سائنَس کوئی خطرناک بیماری نہیں ہے۔ یہی سوچ کبھی کبھی 95٪ والے مریضوں کی بیماری کو بڑھا کر اُنہیں ایسے 4٪ یا 1٪ والے زمرے میں پہنچا سکتی ہے، جس سے بچا جا سکتا تھا۔


ہمیں سائنوس انفیکشن کا علاج کیوں کرنا چاہئے؟

سائنس کا انفیکشن اگر ٹائم پہ علاج نہ کروائے تو پھیپھڑوں، آواز کی نالی، کان، آنکھ اور دماغ تک بھی پھیل سکتا۔ حالانکہ 95 فیصد لوگوں کو ہلکا سائنسائٹس ہوتا، لیکن باقی 5 فیصد میں آنکھ جانے کا اور جان کو بھی خطرہ رہتا۔ اس واسطے بہتر یہی ہے کہ ہم جب اُن 95 فیصد میں ہیں تب ہی علاج کروا لیں، ایسا نہ ہو کہ بعد میں اُن 5 فیصد میں آ جائیں اور معاملہ سرجری تک پہنچ جائے۔ ہلکا سائنسائٹس ہو تو دوائی یا گھر کا علاج زیادہ اچھی طرح کام کرتا۔ اس لیے جتنی جلدی علاج شروع کرو گے، اتنی جلدی ٹھیک ہو جاؤ گے۔ اگر ڈاکٹر سائنس کی سرجری کا مشورہ دے تو کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کے اس کو آگے مت ڈالو۔ جتنا جلدی ہو سکے، سرجری کروا لو۔

سائنس سرجری پہلے اسٹیج میں کرائیں تو بعد کے اسٹیج کے مقابلے میں اچھے رزلٹ ملتے۔

سائنوسائٹس کا علاج بمقابلہ اس کی پیچیدگیوں کا علاج

ایں ساری پیچیدگیاں وقت پر صحیح دوا سے علاج کرانے سے بچائی جا سکتی ہیں۔ اصل میں، سائنسائٹس کے علاج میں استعمال ہونے والی اینٹی بایوٹکس، دمہ کے علاج میں استعمال ہونے والی اینٹی بایوٹکس کے مقابلے میں کافی زیادہ محفوظ ہیں۔


سرجری کو بھی دیکھیں تو، سرجری کے بعد ریکوری کان کا پردہ پھٹنے کے کیس میں ہونے والی سرجری کے مقابلے میں کافی جلدی ہوگی۔ اگر انفیکشن مڈل ایئر سے اِنر ایئر تک پھیل جائے اور سماعت کا نقصان زیادہ ہو جائے، تو کوکلیئر امپلانٹ سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جس کی بنیادی لاگت ایڈوانسڈ سائنَس سرجری کی لاگت سے تقریباً تین گنا ہوتی ہے۔ سرجری کے بعد آپ کو کئی مہینوں تک تھیراپی بھی لینا پڑے گی۔


مزید پیچیدگیوں کے بارے میں جاننے کے لیے، آپ ہمارا اُن کے بارے میں آرٹیکل پڑھ سکتے ہیں۔

"سائنوسائٹس کی پیچیدگیاں" بذریعہ ڈاکٹر کے آر میگھنادھ


نتیجہ

زیادہ تر سائنوس کے انفیکشنز خطرناک نہیں ہوتے، لیکن ان کے ممکنہ خطرات کو سمجھنا اور وقت پر ڈاکٹر سے مشورہ لینا بہت ضروری ہے۔ صحیح تشخیص اور مناسب علاج سے سائنوس کے انفیکشنز کو مؤثر طریقے سے قابو میں رکھا جا سکتا ہے، جس سے پیچیدگیوں کا خطرہ کم ہوتا ہے اور جلد صحت یابی میں مدد ملتی ہے۔ اگر آپ کو سائنسائٹس کا شک ہو یا علامات مسلسل برقرار رہیں، تو اپنی صحت اور تندرستی کی حفاظت کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ لینے میں دیر نہ کریں۔


اگر آپ علاج کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، تو آپ ہمارا مضمون پڑھ سکتے ہیں۔


لکھنے والے

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا سائنوسائٹس ایک سنگین مسئلہ ہے؟

جی ہاں، یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ لیکن بہت سے لوگ اس کی سنجیدگی کو سمجھ نہیں پاتے، کیونکہ کئی کیسز میں یہ بغیر کسی میڈیکل علاج کے خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اس کا وقت پر علاج نہ کیا جائے تو یہ آنکھوں، دماغ، کانوں، پھیپھڑوں وغیرہ جیسے مختلف اعضا میں پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس کا وقت پر علاج کروا لیا جائے۔

 
 
 
  • Facebook
  • Instagram
  • LinkedIn
  • Youtube
SIGN UP AND STAY UPDATED!
Thanks for submitting!

© 2021 - 2022 Anaghasri Technologies and Solutions Pvt. Ltd. All rights reserved.

Medyblog does not provide medical advice, diagnosis, or treatment.

bottom of page