top of page

سائنوسائٹس سے بچاؤ: بار بار ہونے والے انفیکشن سے بچیں

Writer: Dr. Koralla Raja Meghanadh
Dr. Koralla Raja Meghanadh
7 hours ago
6 min read

سائنَس انفیکشن سے بچاؤ، اس کا علاج کرنے سے زیادہ بہتر اور آسان رہتا ہے۔ سائنَسائٹس سے کیسے بچا جا سکتا، یہ جاننے کے لیے پہلے ہمیں سائنَس انفیکشن ہونے کی وجوہات سمجھنا ضروری ہے۔


سائنَسائٹس عام طور پر اُن لوگوں کو ہوتا ہے جن میں نیچے دیے گئے ایک یا ایک سے زیادہ بنیادی عوامل موجود رہتے ہیں:

  • الرجی

  • سائنس کے ڈرینیج کے راستے میں غیر معمولی تبدیلیاں

  • بیکٹیریا کے خلاف کمزور قدرتی قوت مدافعت

ان فیکٹرز کی وجہ سے سائنوسائٹس کیسے ہوتا ہے، اس کے بارے میں مزید جاننے کے لیے آپ ہمارا آرٹیکل "سائنوسائٹس انفیکشن کی کیا وجوہات ہیں؟" پڑھ سکتے ہیں۔


سائنوسائٹس ناک اور اس کے آس پاس کے حصّوں کو متاثر کرنے والے انفیکشن کی وجہ سے ہو سکتا ہے، جو اکثر عام زکام جیسے اوپری حصّے کے وائرل انفیکشن سے شروع ہوتا ہے۔


حالانکہ سرجری کے بغیر سائنس کی ڈرینیج والی راہوں میں جو خرابیاں ہیں، اُن کو ہم ٹھیک نہیں کر سکتے، لیکن باقی دوسرے فیکٹرس کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ تو یہاں ہم نے سائنسائٹس سے بچاؤ کے لیے ایک گائیڈ دی ہے۔


قدِر الرجی کو کیسے سنبھالیں؟

الرجیز عام ہیں، ہندوستان کی ۲۰ سے ۳۰ فیصد آبادی کو الرجیز ہوتی ہیں۔ لیکن بہت سے لوگوں کو پتہ ہی نہیں رہتا کہ اُن کو الرجی ہے۔ الرجی سے متاثر ہونے والے ہر تین میں سے ایک شخص کو اپنی الرجی کا پتا نہیں ہوتا۔

الرجی کو کیسے پہچانیں؟

الرجی کی وجہ سے پولن، ڈسٹ مائٹس اور کبھی کبھار کچھ کھانے کی چیزوں جیسے ٹرگرز کے سامنا ہونے کے بعد چھینکیں آنا، ناک سے پانی بہنا اور اچانک ناک بند ہونا ہو سکتا ہے۔ باقی ایک تہائی لوگوں کو ہلکی ناک بند ہونا، گلے میں خارش، خشک کھانسی اور بار بار زکام ہونے کی شکایت ہو سکتی ہے، جسے وہ موسم کی تبدیلی سمجھ لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو شاید یہ پتہ ہی نہ ہو کہ ان کو الرجی ہے۔ اگر الرجی کا علاج نہ کیا جائے تو ان لوگوں میں سائنسائٹس اور دمہ ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔


ایریٹینٹس اور الرجی پیدا کرنے والی چیزوں سے بچیں

ایسی چیزوں سے دور رہیں جو الرجی کو بڑھا سکتی ہیں۔ ان میں سگریٹ کا دھواں، ہوا میں موجود آلودگی اور صفائی کے سامان یا پرفیوم کی تیز خوشبو شامل ہیں۔ اگر آپ کو الرجی ہے تو دوائیوں یا الرجی شاٹس (انجیکشن) کے ذریعے اس کو صحیح طریقے سے کنٹرول میں رکھنا ضروری ہے۔


گھر کے اندر ہوا میں موجود الرجی پیدا کرنے والے ذرات کو کم کرنے کے لیے HEPA ایئر فلٹر استعمال کرنے کے بارے میں بھی سوچیں۔ ایسی چیزوں سے بچ کر آپ اپنی الرجی کو قابو میں رکھ سکتے ہیں اور ان چیزوں سے بھی بچ سکتے ہیں جو الرجی کو بڑھاتی ہیں۔


الرجی سے بچاؤ کی دوائیں

الرجی کے علاج کے لیے عام طور پر ڈاکٹر کے نسخے کے مطابق محفوظ الرجی کی دوائیں 10 سے 12 سال تک استعمال کرنی پڑ سکتی ہیں، لیکن کئی لوگ علاج نہیں کرواتے۔ یہ دوائیں ڈاکٹر کے مشورے اور نسخے سے ہی استعمال کریں۔


عام زکام کا علاج

زیادہ تر سائنَس انفیکشن ایک عام وائرل زکام سے شروع ہوتے ہیں، جس کا صحیح وقت پر علاج نہیں کیا جاتا۔ شروع میں اس انفیکشن کا علاج آسانی سے ہو سکتا ہے، لیکن کئی لوگ اپنی علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور ڈاکٹر سے علاج نہیں کرواتے یا گھریلو ٹوٹکے بھی استعمال نہیں کرتے۔ اُن کو لگتا ہے کہ ایک ہفتے میں زکام خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن اگر عام زکام کا علاج نہ کیا جائے تو اس سے سائنَسائٹس اور درمیانی کان کا انفیکشن جیسی تکلیفیں ہو سکتی ہیں۔


عام زکام کو ہر بار پوری طرح ختم کرنا ممکن نہیں ہوتا، لیکن گھر پر اس کا علاج کرنے سے سائنَسائٹس اور درمیانی کان کے انفیکشن جیسی پیچیدگیاں ہونے کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔

عام زکام کا علاج کرنے اور اُس کو قابو میں رکھنے کے لیے ہم کچھ آسان قدم اُٹھا سکتے ہیں، تاکہ آگے چل کر ہونے والی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے:

  1. زائلو میٹازولین (Xylometazoline) اور آکسی میٹازولین (Oxymetazoline) جیسے ناک کھولنے والے ڈراپس استعمال کرنے سے ناک کے اندر موجود بلغم والی جھلی کی سوجن کم ہو سکتی ہے۔ یہ جھلی آگے چل کر سائنَس تک بھی پھیلی رہتی ہے، اس لیے اگر سائنَس میں بھی سوجن ہو تو وہ بھی کم ہو سکتی ہے۔ البتہ، ان ڈراپس کا احتیاط سے استعمال کرنا اور مہینے میں زیادہ سے زیادہ 7 دن تک ہی استعمال کرنا ضروری ہے، تاکہ ان کی عادت نہ پڑے اور ناک کی بندش دوبارہ پہلے سے زیادہ نہ بڑھے۔

  2. دن میں تین مرتبہ، ہر مرتبہ 5 منٹ تک بھاپ لیں۔ بھاپ لیتے وقت سر پر کمبل یا کوئی کپڑا نہ ڈالیں۔

  3. اینٹی وائرل دوائیں (Antivirals) – یہ ایسی دوائیں ہوتی ہیں جو جسم میں وائرس کی بڑھوتری کو قابو میں رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔ ان سے انفیکشن کو قابو میں رکھنے اور وائرس کے دوسروں تک پھیلنے کے امکان کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ دوائیں وائرس کے خاص حصّوں پر اثر کرتی ہیں، جس سے وائرس اپنی تعداد بڑھا کر آگے پھیل نہیں پاتا۔ اینٹی وائرل دوائیں صرف ڈاکٹر کے مشورے اور نسخے پر ہی استعمال کرنا ضروری ہے۔

تو اوپر بتائی گئی وجوہات چاہے جو بھی ہوں، عام زکام میں بھاپ لینا اور ناک کے قطرے استعمال کرنا ہمیشہ بہتر رہتا۔ اس سے سائنوسائٹس اور اوٹائٹس میڈیا یعنی درمیانی کان کا انفیکشن ہونے سے بچاؤ ہوتا۔


اپنی قوتِ مدافعت برقرار رکھیں

فرض کریں کہ آپ کا امیون سسٹم پیدائش سے ہی کمزور ہے۔ ایسی صورت میں آپ کو بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔ عام زکام جیسا اوپری حصے کا وائرل انفیکشن آپ کے سائنَسز میں بیکٹیریا کا انفیکشن شروع کر سکتا ہے۔ اس سے آپ کو مختلف بیماریوں کا خطرہ اور بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے اپنے امیون سسٹم کو مضبوط رکھنے اور بیماریوں اور انفیکشن سے بچنے کے لیے احتیاط کرنا ضروری ہے۔


یہاں کچھ ایسے طریقے ہیں جو آپ کی قوتِ مدافعت بڑھانے میں مدد کریں گے:

  1. پوری نیند لینا

  2. جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دینا

  3. متوازن غذا لینا

  4. قوتِ مدافعت بڑھانے کے لیے مصالحوں کا مناسب استعمال کرنا


مناسب نیند

اچھی صحت اور مضبوط مدافعتی نظام کے لیے پوری نیند لینا بہت ضروری ہے۔ کم نیند لینا یا ضرورت سے زیادہ سونا، دونوں سے ہمارے جسم کی انفیکشن سے لڑنے کی طاقت پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔ روز ایک ہی وقت پر سونے اور جاگنے کی عادت ڈالنے سے ہر رات ضروری نیند پوری کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے ہمارا مدافعتی نظام بھی بہتر طریقے سے کام کرتا رہتا ہے۔

پانی کی صحیح مقدار پینا

پانی کی صحیح مقدار پینے سے آپ کی قوتِ مدافعت اچھی رہتی ہے۔ جب آپ کے جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے تو سائنَس میں موجود بلغم گاڑھا ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے بلغم سائنَس میں جمع ہونے لگتا ہے، جس سے سائنَسائٹس ہو سکتا ہے۔ جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنے سے بلغم پتلا رہتا ہے اور آسانی سے باہر نکلتا ہے۔ لیکن، لمبے عرصے تک ضرورت سے زیادہ پانی پینا دل اور گردوں کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔


آپ کو روزانہ کتنی مقدار میں پانی پینا چاہیے، یہ جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کریں: روزانہ کتنا پانی پینا چاہیے؟


متوازن غذا

ایک اچھی اور متوازن غذا، جس میں پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، فائبر اور ضروری وٹامنز صحیح مقدار میں موجود رہتے، جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ روزانہ متوازن غذا کھانے سے ہماری قوتِ مدافعت مضبوط ہوتی ہے اور مجموعی صحت بھی اچھی رہتی ہے۔


قوتِ مدافعت کو مضبوط رکھنے سے متوازن غذا عام زکام سے بچنے میں مدد کر سکتی ہے۔ اگر سائنوسائٹس ہو بھی جائے تو جسم کو اس سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے، جس سے دوائیوں کی ضرورت بھی کم پڑ سکتی ہے۔

قوتِ مدافعت بڑھانے والے مصالحے

مصالحوں میں ایسے مائیکرو نیوٹرینٹس (چھوٹے غذائی اجزاء) پائے جاتے ہیں، جن کی کمی صرف سپلیمنٹس سے پوری نہیں کی جا سکتی۔ اپنی روزمرہ کی غذا میں ان مصالحوں کو شامل کرنے سے صحت بہتر ہو سکتی ہے۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ ان کے فائدے اس بات پر منحصر نہیں رہتے کہ آپ کتنی مقدار میں استعمال کرتے ہیں۔ بلکہ، زیادہ مقدار میں مصالحے کھانے سے گیسٹرائٹس (معدے میں سوزش) ہو سکتی ہے۔ اس کے بجائے، ان کو صحیح طریقے سے اور مناسب مقدار میں استعمال کرنا ضروری ہے۔


کالی مرچ میں پائپرین نام کا ایک مادہ ہوتا ہے، جو ان غذائی اجزاء کو جسم میں بہتر طریقے سے جذب ہونے میں مدد کرتا ہے، خاص طور پر جب اس کو ہلدی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ اپنے کھانے میں تھوڑی سی کالی مرچ اور ہلدی ملانے سے قوتِ مدافعت بہتر ہو سکتی ہے۔ جو لوگ انڈین کھانے باقاعدگی سے کھاتے ہیں، جن میں عام طور پر کئی قسم کے مصالحے استعمال ہوتے ہیں، وہ اپنے کھانے میں تھوڑی سی کالی مرچ بھی شامل کر سکتے ہیں تاکہ اس کے فائدے حاصل ہوں۔ ذائقے کے لیے چمچ بھر کالی مرچ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس ایک چٹکی کالی مرچ کافی ہے، جو باقی غذائی اجزاء کو جذب کرنے میں مدد کرتی ہے۔


ایک دلچسپ بات: بازار میں ملنے والے کئی ایسے سپلیمنٹس جنہیں قوتِ مدافعت بڑھانے کے لیے فروخت کیا جاتا ہے، ان میں ہلدی ایک اہم جزو ہوتی ہے۔ اگر آپ ان کے اجزاء کی فہرست غور سے دیکھیں تو اس میں کالی مرچ سے نکالا گیا پائپرین بھی شامل ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پائپرین ہلدی میں موجود فائدہ مند اجزاء کو جسم میں بہتر طریقے سے جذب ہونے میں مدد کرتا ہے، جس سے ہلدی کے قوتِ مدافعت بڑھانے والے فائدے زیادہ اچھی طرح حاصل ہو سکتے ہیں۔



 
 
 
  • Facebook
  • Instagram
  • LinkedIn
  • Youtube
సైన్ అప్ చేయండి మరియు అప్‌డేట్లు పొందండి!
సమర్పించినందుకు ధన్యవాదాలు!

office.medyblog@gmail.comలో మమ్మల్ని సంప్రదించండి

© 2021 - 2022 అనఘశ్రీ టెక్నాలజీస్ అండ్ సొల్యూషన్స్ ప్రై.లి. Ltd. అన్ని హక్కులు ప్రత్యేకించబడ్డాయి.

Medyblog వైద్య సలహా, రోగ నిర్ధారణ లేదా చికిత్సను అందించదు.

bottom of page