top of page

نان اِن ویسیو فنگل سائنسائٹس

Writer: Dr. Koralla Raja Meghanadh
Dr. Koralla Raja Meghanadh
4 hours ago
6 min read

نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کیا ہے؟

نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس، فنگل سائنوسائٹس کی تین قسموں میں سب سے عام قسم ہے۔ ان تینوں قسموں میں یہ سب سے زیادہ پائی جانے والی اور سب سے کم خطرناک قسم ہے۔ اصل میں، جب ڈاکٹر فنگل سائنوسائٹس بولتے ہیں، تو اُن کا مطلب نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس ہی ہوتا ہے۔

 

فنگل سائنوسائٹس میں اگر انفیکشن نان اِنویسیو کے علاوہ کسی اور قسم کا ہو، تبھی اُس کی قسم کا ذکر کرتے۔ ہم جب بھی گوگل پر فنگل سائنوسائٹس سرچ کرتے، تو زیادہ تر آرٹیکلز نان اِنویسیو قسم کے بارے میں ہی رہتے۔ لیکن اُس میں بھی انفیکشن کو بس فنگل سائنوسائٹس کہہ کے ذکر کرتے۔

نان اِن ویسیو فنگل سائنسائٹس

نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس ایک ایسی حالت ہے جس میں فنگس کی بڑھوتری صرف سائنَس کی خالی جگہوں تک محدود رہتی ہے اور وہ آس پاس کے ٹشوز میں نہیں پھیلتی۔ فنگس کو ختم کرنے کے لیے ہمارے جسم میں کِلر سیلز کی ضرورت پڑتی ہے، لیکن ان کی تعداد کم رہتی ہے۔ فنگس بہت تیزی سے بڑھتی ہے، اس لیے ہمارا جسم بھی اتنی ہی تیزی سے کِلر سیلز نہیں بنا پاتا کہ فنگس کا مقابلہ کر سکے۔ اس کے بجائے، ہمارا جسم مسلسل یہ کوشش کرتا رہتا ہے کہ فنگس خون یا ٹشوز میں داخل نہ ہو۔ اس کے لیے جسم سائنَس کے چاروں طرف ایک حفاظتی تہہ بنا دیتا ہے۔ یہ عمل کافی لمبے عرصے تک چلتا رہتا ہے

 

وجوہات

نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس عام طور پر سائنَس کی خالی جگہوں میں پھپھوندی موجود رہنے کی وجہ سے ہوتا۔ البتہ، سائنَس میں فنگل انفیکشن ہونے کی اصل وجہ بننے والے حالات کے بارے میں ابھی صاف طور پر معلوم نئیں ہوا۔

 

یک اندازے پر مبنی نظریے کے مطابق، جب سائنوسائٹس (بیکٹیریا کی وجہ سے ہونے والا سائنَس انفیکشن) ہوتا ہے، تو جسم کا مدافعتی نظام سائنَس میں موجود انفیکشن سے لڑنے کے لیے سفید خون کے خلیے (WBCs) بناتا ہے۔ یہ خلیے بیکٹیریا کو ختم کرنے کے لیے سائنَس میں پہنچتے ہیں۔ جب بیکٹیریا ختم ہو جاتے ہیں، تو ان سفید خون کے خلیوں کو واپس خون میں پہنچنے میں دقت ہو سکتی ہے۔ ان کو سائنَس کے قدرتی نکاسی کے عمل کے ذریعے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، سائنَس میں سوجن کی وجہ سے نکاسی کا راستہ بند ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، ایسا سیال جس میں مردہ بیکٹیریا اور سفید خون کے خلیوں کی کافی مقدار موجود رہتی ہے، سائنَس سے باہر نکلنے میں مشکل محسوس کر سکتا ہے۔ یہ سیال سائنَس میں جمع ہو کر پیپ میں بدل سکتا ہے۔ پیپ میں فنگس کی نشوونما کے لیے ضروری غذائی اجزاء موجود رہتے ہیں، جس سے فنگس کو بڑھنے کا موقع ملتا ہے اور آخرکار فنگل سائنوسائٹس ہو سکتا ہے۔

 

قسمیں

نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کی دو قسمیں رہتیں۔

  1. الرجک فنگل رائنو سائنوسائٹس

  2. فنگل بال


الرجک فنگل رائنو سائنوسائٹس

الرجک فنگل رائنو سائنوسائٹس میں علامتیں کافی شدید رہتی ہیں۔ فنگس کی مقدار کم رہنے کے باوجود بھی، جسم اُس کے خلاف ضرورت سے زیادہ ردِعمل دکھاتا۔ عام طور پر، فنگس بہت کم ہونے پر بھی جسم میں اُس کے خلاف شدید الرجی کا ردِعمل ہوتا۔

 

سائنَس میں فنگل بال

فنگل بال میں فنگس کا کافی زیادہ مواد جمع ہو جاتا، لیکن جسم اُس کے خلاف کوئی خاص ردِعمل نہیں دیتا۔ باہر سے آنے والے جراثیم کے خلاف جسم دو طریقوں سے ردِعمل دیتا۔ ایک الرجی کی شکل میں، اور دوسرا اُن جراثیم کو ختم کرنے کی شکل میں۔ اگر جسم کا الرجی والا ردِعمل زیادہ رہتا تو الرجک فنگل رائنو سائنوسائٹس ہو جاتا۔ لیکن اگر جسم کا ردِعمل بہت ہی کم رہتا، تو فنگس جمع ہوتے ہوتے فنگل بال بن جاتا۔

 

نان اِنویسیو فنگل سائنَس انفیکشن کی علامات

  1. ناک بہنا

  2. ناک بند ہونا

  3. سر درد

  4. چہرے میں درد

  5. ناک سے بلغم گلے کے پچھلے حصے میں اترنا، جس کی وجہ سے بار بار گلا صاف کرنا پڑتا

  6. گلے میں خراش

  7. بار بار کھانسی کے دورے پڑنا


نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کے شروع کے مرحلوں میں، اس کی علامتیں بیکٹیریا کی وجہ سے ہونے والے یا عام سائنَس انفیکشن جیسی ای رہتی۔


یہ علامات بہت ہلکی رہ سکتیئں یا بالکل بھی نظر نئیں آتیں، اس لیے نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کو پہچاننا مشکل رہتا۔ علامات رئیں بھی تو وہ بیکٹیریل سائنوسائٹس کی وجہ سے رئیں، فنگس کی وجہ سے نئیں۔ کیوں کہ یہ فنگس سائنَس میں خاموشی سے رہتا۔

 

کبھی کبھی جب ہماری امیونٹی کمزور پڑ جاتی، تب فنگس دوبارہ زور پکڑنے لگتا۔ اُس وقت ہماری امیونٹی سائنَس کے اردگرد جو حفاظتی دیوار بناتی، وہ فنگس کے آگے کمزور پڑ جاتی۔ یہ دیوار آنکھ اور سائنَس کے بیچ میں یا سائنَس اور دماغ کے بیچ میں ہو سکتی۔ فنگس آس پاس کی جگہوں تک پھیل کر آنکھ یا دماغ کے اہم حصوں پر دباؤ ڈالنے لگتا، لیکن اُن حصوں کے اندر نہیں پھیلتا۔ آنکھ اور دماغ پر دباؤ پڑنے کی وجہ سے آنکھ یا دماغ سے جڑی علامات نظر آنے لگتی ہیں۔ ایسی صورت میں، اینڈوسکوپی اور سی ٹی اسکین کے ذریعے ہم اس کا پتا لگا سکتے۔

 

کافی کیس ایسے رہتے کہ مریض کسی اور کام کے واسطے سی ٹی اسکین کراتے، تو اُن کو فنگل سائنوسائٹس ہونے کا پتہ چلتا۔ کیوں بولے تو، جب تک دوسرا انفیکشن نہیں ہوتا، تب تک اس کی علامتیں بہت کم رہتیں یا بالکل بھی نظر نہیں آتیں۔ اس لیے، جب تک سی ٹی اسکین نہیں کراتے، تب تک اپنے کو پتا بھی نہیں چلتا کہ اپنے کو فنگل انفیکشن ہے۔

 

تشخیص

جیسا کہ اوپر بتائے، نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کو صرف علامتوں کی بنیاد پے پہچاننا مشکل ریتا۔ علامتیں نظر آنے کے باوجود، اکثر وہ الرجی کے ری ایکشن یا فنگل سائنوسائٹس کے ساتھ موجود بیکٹیریا کی وجہ سے ہونے والے سائنوسائٹس کی علامتیں ریتیں۔

 

اینڈوسکوپی اور سی ٹی اسکین

نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کی تشخیص کرنے کے واسطے ہم ناک کی اینڈوسکوپی تے سی ٹی اسکین کرتے۔ اینڈوسکوپی کے دوران اگر ڈاکٹر کو سائنَس سے ناک میں آتا ہوا فنگس کا کوئی مادّہ نظر آیا تو اس کو کلچر تے جانچ کے واسطے بھیجتے۔ اس میں اس مادّے کو مائیکروسکوپ کے نیچے دیکھ کر پتا لگاتے کہ فنگل انفیکشن ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ، الگ الگ مائیکولوجیکل ٹیسٹ کر کے فنگس کی قسم بھی معلوم کر سکتے۔


فنگل سمیئر

فنگل سمیئر کو پوٹاشیم ہائیڈرو آکسائیڈ سمیئر بھی بولتے۔ اس میں اینڈوسکوپی کے دوران نکالا ہوا پیپ کا ایک قطرہ لیتے اور اس کو پوٹاشیم ہائیڈرو آکسائیڈ کے ساتھ شیشے کی سلائیڈ پر ڈالتے۔ اس میں پوٹاشیم ہائیڈرو آکسائیڈ بیکٹیریا یا دوسرے جانداروں کی سیل وال یعنی خلیوں کی دیواروں کو ختم کر دیتا یا گھلا دیتا۔ اس کے بعد کچھ دیر انتظار کرتے۔ اتنے میں باقی سب سیل وال گھل جاتے۔ لیکن فنگس پوٹاشیم ہائیڈرو آکسائیڈ کے محلول کو برداشت کر سکتی، اس لیے فنگس کے خلیے باقی رہتے۔ اس سے فنگس کو آسانی سے پہچاننا اور مائیکروسکوپ میں دیکھنا ممکن ہو جاتا۔ اس کے بعد فنگس کو دو سے چودہ دن تک بڑھنے کے لیے غذا، پانی اور مناسب درجۂ حرارت دیتے۔ اس دوران فنگس ایک چھوٹے سے اسپور سے بڑھ کر پوری طرح تیار فنگس بن جاتی۔ اس کی شکل اور خاصیتوں کو دیکھ کر یہ معلوم کرنا آسان ہو جاتا کہ یہ کس قسم کی فنگس ہے۔

 

علاج

فنگل بال نان اِنویسیو ٹریٹمنٹ

فنگل بال کے مریضوں میں فنگس کو باہر نکالنے کے لیے سائنَس کو کھولنا پڑتا۔ سائنَس کا جو قدرتی راستہ رہتا، اُس کو بڑا کرنا پڑتا تاکہ آگے چل کے اُس میں پانی یا دوسرا فلوئڈ جمع ہوکے رُکنے کا کوئی چانس نہ رہے۔ اب تک ہم کو معلوم ہوچکا کہ جہاں فلوئڈ جمع ہوکے رُکتا، وہاں فنگس بڑھتا۔ اس لیے اگر ہم سائنَس میں فلوئڈ کو رُکنے نہیں دیں گے تو فنگس بننے کا امکان نہیں رہے گا۔ اسی واسطے سائنَس میں ایک بڑا اوپننگ بنانا پڑتا، تاکہ فلوئڈ آسانی سے باہر نکل جائے۔

 

الرجک فنگل رائنو سائنوسائٹس کا علاج

الرجک فنگل سائنوسائٹس میں زیادہ تر تکلیف الرجی کی وجہ سے ہوتی۔ اس میں ناک کے اندر بہت سارے پولپس بن جاتے، ناک میں رطوبت آتی، چھینکیں آتیں، ناک میں کھجلی ہوتی، اور بلغم یا پانی ناک کے الگ الگ حصّوں میں جمع ہو کے تکلیف پیدا کرتا۔


شروع میں، ایسی حالت میں ہم الرجی کم کرنے کی دوائیاں دیتے، جس سے تکلیف کم ہو جاتی۔ کبھی کبھی سوجن کم کرنے کے لیے اسٹیرائڈز بھی دیتے۔ اس کے بعد ڈاکٹر سرجری کرتے، جس میں سائنَس کو صاف کرتے، اندر جمع ہوا رطوبت نکالتے اور سائنَس کا منہ چوڑا کرتے، تاکہ آئندہ وہاں رطوبت جمع نہ ہو۔ اگر ہم رطوبت کو سائنَس میں جمع ہونے نہیں دیں گے، تو فنگس کو بڑھنے کا موقع نہیں ملے گا۔ اس سے الرجی کا ردِعمل بھی کم ہو جاتا۔ 


نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کا اینٹی فنگل علاج

عام طور پر، نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس میں اینٹی فنگل علاج سب سے اہم علاج نئیں رہتا۔ اگر فنگل بال میں فنگس کی مقدار زیادہ ریتی یا الرجک فنگل رائنو سائنوسائٹس میں فنگس زیادہ ریتی، تو ڈاکٹر علاج کو بہتر بنانے کے واسطے اینٹی فنگل دوائیاں استعمال کرتے۔ فنگل بال کے معاملے میں اینٹی فنگل دوا بھی دینی پڑتی اور سرجری بھی کرنی پڑتی۔ الرجک فنگل رائنو سائنوسائٹس میں اینٹی فنگل دوا کے ساتھ اینٹی الرجی دوائیاں اور سرجری بھی ضروری ریتی۔


 
 
 
  • Facebook
  • Instagram
  • LinkedIn
  • Youtube
సైన్ అప్ చేయండి మరియు అప్‌డేట్లు పొందండి!
సమర్పించినందుకు ధన్యవాదాలు!

office.medyblog@gmail.comలో మమ్మల్ని సంప్రదించండి

© 2021 - 2022 అనఘశ్రీ టెక్నాలజీస్ అండ్ సొల్యూషన్స్ ప్రై.లి. Ltd. అన్ని హక్కులు ప్రత్యేకించబడ్డాయి.

Medyblog వైద్య సలహా, రోగ నిర్ధారణ లేదా చికిత్సను అందించదు.

bottom of page