top of page

ایکیوٹ آن کرانک سائنسائٹس: وجوہات، تشخیص اور بچاؤ کے طریقے

Writer: Dr. Koralla Raja Meghanadh
Dr. Koralla Raja Meghanadh
7 hours ago
7 min read


ایکیوٹ آن کرانک سائنسائٹس کیا ہوتا ہے؟

ایکیوٹ کا مطلب شدید ہوتا ہے، اور کرانک کا مطلب لمبے عرصے تک رہنے والا ہوتا ہے۔ "ایکیوٹ آن کرانک" سائنَسائٹس تب ہوتا ہے جب کسی کو پہلے سے کرانک سائنَسائٹس ہو اور اچانک سائنَسائٹس کی شدید علامات شروع ہو جائیں۔


کرانک سائنَسائٹس ایک ایسی کنڈیشن ہے جِس میں سائنَسز میں ہونے والی سُوجن اور اِنفلامیشن ۴۵ دِن سے زیادہ تک برقرار رہتی ہے۔ اِس کنڈیشن میں علامات کی شدت اور تعداد بہت کم ہوتی ہے، اور علامات تقریباً نہ ہونے کے برابر محسوس ہوتی ہیں۔


جب کسی مریض کو کرانک سائنَس انفیکشن ہو اور اچانک اس کے سمپٹمز بہت زیادہ بڑھ جائیں، تو اس کا مطلب اکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال اس میڈیکل کنڈیشن کی ایک خاص نشانی مانی جاتی ہے۔ اس کو مینیج کرنا تھوڑا مشکل ہو سکتا ہے، لیکن صحیح ٹریٹمنٹ سے زیادہ تر لوگوں کو اس سائنَسائٹس سے آرام مل سکتا ہے۔


اکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس کیوں ہوتا ہے؟

کرانک سائنَسائٹس کے مریضوں میں اکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس تب ہوتا ہے جب

  1. سردی کے موسم کے اثر میں آنا

  2. دھول مٹی والے ماحول یا آلودگی کے سامنے رہنا

  3. وائرل یا بیکٹیریا کا انفیکشن

  4. کمزور قوت مدافعت


ٹھنڈا موسم

سردی کا موسم سائنَس کے مسائل کو اور زیادہ بڑھا سکتا ہے، کیونکہ اس سے سائنَس کی دیواروں میں سوجن آجاتی ہے۔ اس کی وجہ سے سائنَس صحیح طریقے سے ڈرین ہونا مشکل ہوجاتا ہے، جس سے بیکٹیریا زیادہ بڑھنے لگتے ہیں اور انفیکشن ہوسکتا ہے۔ اس طرح ایک چکر سا بن جاتا ہے، جہاں انفیکشن کی وجہ سے مزید بلاکیج ہوجاتی ہے، جس سے علامات اور زیادہ شدید ہوجاتی ہیں اور روزمرہ کے کام کرنا بھی مشکل لگنے لگتا ہے۔


دھول مٹی والا ماحول یا آلودگی

دھول اور آلودگی سے الرجی ہو سکتی، جس سے سائنسز میں جلن اور سوزش ہوتی اور فلوئڈ زیادہ بننے لگتا۔ اس سے سائنس انفیکشن اور بھی بڑھ سکتا، اور پہلے سے موجود کرانک سائنَسائٹس، ایکیوٹ آن کرانک کنڈیشن میں بدل سکتا، جو روزمرہ زندگی میں کافی تکلیف اور پریشانی کا باعث بن سکتا۔


وائرل یا بیکٹیریا کی وجہ سے انفیکشن

جب ہم کسی وائرل یا بیکٹیریا کے انفیکشن سے بیمار پڑتے ہیں، تو ہمارے اِمیون سسٹم کی توجہ کا ایک حصّہ کرانک سائنَسائٹس سے ہٹ جاتا ہے، جس کی وجہ سے بیکٹیریا کے بڑھنے کے لیے آسانی ہو جاتی ہے۔ اگر انفیکشن ناک کو متاثر کرے، تو سائنَس میں سوجن اور بڑھ سکتی ہے، جس سے مزید بلاکیج اور فلوئڈ جمع ہونے لگتا ہے۔ اس کی وجہ سے سائنَسائٹس مزید بگڑ سکتا ہے، اور علامات زیادہ شدید ہونے کے ساتھ ساتھ نئی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔


کمزور مدافعتی نظام

جب ہمارا مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے، تو کرانک سائنَسائٹس میں جسم کی قوتِ مدافعت اور بیکٹیریا کے درمیان جو توازن رہتا ہے، وہ بگڑ سکتا ہے، جس کی وجہ سے اکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر کے۔ آر۔ میگھناد کہتے ہیں کہ اکثر ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ اہم امتحانات کے بعد، یا حادثات جیسے صدمہ دینے والے واقعات کے بعد، مریضوں کو اکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس ہو جاتا ہے۔ ایسے واقعات سے ذہنی دباؤ بڑھ سکتا ہے اور مدافعتی نظام کمزور پڑ سکتا ہے۔ کچھ عام چیزیں، جیسے پوری نیند نہ لینا یا زیادہ ایکسرسائز کی وجہ سے تھکن ہونا بھی مدافعتی نظام کو کمزور کر سکتی ہیں اور اکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس کو ٹرگر کر سکتی ہیں، جس سے ہماری روزمرہ کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔


ایکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس کی علامات

سائنَسائٹس ایک ایسی بیماری ہے جس میں الگ الگ طرح کی علامات ہو سکتی ہیں، اور بیماری کس اسٹیج پر ہے اُس کے حساب سے علامات کی شدت بھی کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔ اکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس میں علامات اکیوٹ سائنَسائٹس جیسی ہی ہوتی ہیں، لیکن یہ زیادہ شدید اور زیادہ دنوں تک رہ سکتی ہیں۔


قدیمیں میں سائنَسائٹس کے کسی بھی اسٹیج میں ہونے والی کچھ عام علامتیں یہ ہیں:

  1. ناک بند رہنا یا ناک میں بھرا بھرا پن

  2. ناک بہتے رہنا

  3. سر درد

  4. چہرے میں درد

  5. ناک کے پچھلے حصے سے بلغم گلے میں اترنے کا احساس

  6. بار بار گلا صاف کرنے کی ضرورت محسوس ہونا

  7. بار بار گلے میں خراش اور گلے میں درد ہونا

  8. بار بار کھانسی کے دورے پڑنا


کرانک سائنَسائٹس میں عام طور پر مریض کو ایک یا دو ہلکی علامتیں محسوس ہوتی ہیں۔ لیکن جیسے جیسے یہ کنڈیشن ایکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس میں بدلتی جاتی ہے، ویسے ویسے علامتوں کی تعداد اور ان کی شدت بھی بڑھتی جاتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ سائنَس میں کسی بھی طرح کا ڈِسٹربنس یا اِمیون سسٹم کمزور ہونے کی وجہ سے اِنفیکشن ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس سے بیماری اور جسم کے بیچ کا بیلنس بدل جاتا ہے۔ ایکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس کی علامتیں ایکیوٹ سائنَس اِنفیکشن جیسی ہی رہتی ہیں، لیکن زیادہ شدید ہوتی ہیں۔ اِس میں مریض کو چار سے پانچ علامتیں ہو سکتی ہیں، اور اُن کی شدت بھی زیادہ رہتی ہے۔


 ایکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس کی تشخیص

ایکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس کی تشخیص کرتے وقت، ڈاکٹر پہلے مریض کی میڈیکل ہسٹری دیکھتے ہیں اور اُس کے علامات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اُس کے بعد، حالت کتنی پھیلی ہوئی ہے اور کتنی شدید ہے یہ معلوم کرنے کے لیے نَیزَل اینڈوسکوپی اور سی ٹی اسکین کرتے ہیں۔


نَیزل اینڈوسکوپی ایک ایسا طریقہ ہے جس میں ڈاکٹر ناک اور سائنَس کے راستوں کو غور سے دیکھ کر معائنہ کرتے ہیں کہ وہاں میوکوئڈ ڈسچارج، نَیزل پولپس یا پیپ تو موجود نہیں ہے۔ اس معائنے میں ایک باریک اور لچکدار ٹیوب، جس کے سرے پر لائٹ اور کیمرا لگا ہوتا ہے، ناک کے اندر ڈالی جاتی ہے۔ اس کے ذریعے ڈاکٹر ناک اور سائنَس کے سوراخوں کا اچھی طرح معائنہ کرتے ہیں۔ اس سے مریض کی حالت کے بارے میں کافی واضح اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔


سی ٹی اسکین سر کے اندر موجود سائنَسز کی تفصیلی تصویر دِکھا سکتا ہے، جس سے ڈاکٹر یہ پتا لگا سکتے ہیں کہ سائنَسز میں پانی یا فلوئڈ جمع ہونے کی وجہ کوئی ساختی خرابی تو نہیں ہے۔ یہ مختلف سائنَسز کے اندر موجود چیزوں میں بھی فرق بتا سکتا ہے۔ ہوا سے بھرے ہوئے سائنَسز کالے دِکھائی دیتے ہیں، جبکہ پیپ یا فلوئڈ گرے رنگ میں یا فلوئڈ لیول کی شکل میں نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ، سی ٹی اسکین سائنَسز میں فنگل انفیکشن کی موجودگی بھی دِکھا سکتا ہے۔ اس میں سائنَس کے اندر گرے شیڈو کے ساتھ ایک سفید شیڈو نظر آ سکتا ہے، جو فنگل انفیکشن کی طرف اشارہ کر سکتا ہے۔


مختصر طور پہ، نَیزل اینڈوسکوپی اور سی ٹی اسکین سے ڈاکٹر مریض کے سائنسز کو پوری طرح دیکھ سکتے ہیں، جس سے ایکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس کی زیادہ صحیح تشخیص کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر مریض کے لیے ایسا علاج کا پلان بنا سکتے ہیں جو مسئلے کی اصل وجہ کو ٹارگٹ کرے۔ اس سے علامات میں زیادہ مؤثر طریقے سے آرام ملتا ہے اور مریض جلدی ٹھیک ہو جاتا ہے۔


ایکِیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس کا علاج

ایکویٹ آن کرانک سائنَسائٹس کا علاج کرنے کا طریقہ، کورس کتنے دن چلانا ہے اس معاملے میں، ایکویٹ سائنَسائٹس جیسا ہی رہتا ہے۔ لیکن اس میں استعمال ہونے والی اینٹی بایوٹکس الگ ہو سکتی ہیں، کیونکہ ایکویٹ آن کرانک سائنَسائٹس میں موجود بیکٹیریا، ایکویٹ سائنَسائٹس میں موجود بیکٹیریا سے الگ ہوتے ہیں۔ شروع میں ڈاکٹر ایسی اینٹی بایوٹکس دیتے ہیں جو کرانک اور ایکویٹ، دونوں سائنَسائٹس پر اثر کرتی ہیں۔ لیکن کلچرل اسٹڈیز مکمل ہونے کے بعد، سائنَس میں موجود خاص بیکٹیریا کی پہچان ہو جاتی ہے اور پھر اسی کے حساب سے علاج کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ کرانک اور ایکویٹ، دونوں سائنَسائٹس کو ٹارگٹ کرنے والی اینٹی بایوٹکس استعمال کرنی ہیں یا صرف کرانک سائنَسائٹس کو ٹارگٹ کرنے والی اینٹی بایوٹکس دینی ہیں، یہ فیصلہ سرجن کے تجربے اور سمجھ بوجھ پر منحصر ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر کیس میں یہ بات آسانی سے طے کرنا مشکل ہوتا ہے۔


کرانک سائنَسائٹس، ایکویٹ آن کرانک سائنَسائٹس میں اُس وقت بدل سکتا ہے جب نئے بیکٹیریا سائنَس میں داخل ہو جائیں، یا مریض کا امیون سسٹم کمزور ہو جائے۔ صورتحال کے حساب سے ڈاکٹر کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ ایسی اینٹی بایوٹکس دینی ہیں جو گرام پازیٹو اور گرام نیگیٹو، دونوں قسم کے بیکٹیریا پر کام کریں، یا صرف ایک قسم کے بیکٹیریا پر کام کرنے والی اینٹی بایوٹکس دینی ہیں۔ اسی لیے علاج کے کچھ پہلوؤں کو صرف آسانی سے سمجھانا مشکل ہوتا ہے؛ ان چیزوں میں تجربہ بہت اہم ہوتا ہے۔ اس لیے میڈیسن کی پڑھائی کے دوران کسی سینئر سرجن سے سیکھنا بہت ضروری ہے، کیونکہ ہر چیز صرف کتابوں سے نہیں سیکھی جا سکتی۔


ایکِیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس کی پیچیدگیاں

اکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس میں پیچیدگیاں ہونا بہت کم ہوتا ہے۔ پھر بھی، جب ہماری قوتِ مدافعت کمزور ہو جاتی ہے، تو انفیکشن سائنس سے باہر پھیل سکتا ہے اور آنکھوں، دماغ اور دانتوں جیسی قریب کی جگہوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ خوش قسمتی سے، یہ صرف بہت تھوڑے لوگوں میں ہوتا ہے—تقریباً ہر ایک لاکھ لوگوں میں سے ایک شخص کو۔ اس لیے، جو بھی چیز ہماری قوتِ مدافعت کو کم کرتی ہے، وہ یہ پیچیدگی پیدا ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔


ایکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس کی وجہ سے ہونے والی پیچیدگیاں یہ ہیں:

  1. آربیٹل سیلولائٹس: یہ ایک ایسی کنڈیشن ہے جس میں سائنَس کا انفیکشن آنکھوں تک پھیل جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے آنکھ میں درد اور سوجن ہوتی ہے، اور یہاں تک کہ نظر بھی جا سکتی ہے۔

  2. آربیٹل ایبسس: آنکھ کے خانے میں پیپ جمع ہونے سے وہاں کی اضافی جگہ بھر جاتی ہے، جس کی وجہ سے آنکھ کی حرکت اور آپٹک نرو کو ملنے والی خون کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ آپٹک نرو کو خون کی سپلائی کم ہونے سے نظر جانے کا خطرہ رہتا ہے، اس لیے فوراً میڈیکل مدد لینا بہت ضروری ہے۔ اگر نرو کو خون کی سپلائی مکمل طور پر ختم ہو جائے، تو علاج کے بعد بھی نظر واپس نہ آنے کا امکان رہتا ہے۔

  3. میننجائٹس: جب انفیکشن دماغ کو ڈھانپنے والی جھلیوں تک پھیل جاتا ہے، تو اسے میننجائٹس کہتے ہیں۔ اس میں گردن میں درد، گردن اکڑ جانا، بخار اور متلی محسوس ہوئے بغیر اُلٹی آنا جیسی علامات ہوتی ہیں۔

  4. اینسیفلائٹس: جب انفیکشن دماغ کے اندر کے حصّوں تک پھیل جاتا ہے، تو اسے اینسیفلائٹس کہتے ہیں۔ اس سے تیز بخار، دورے اور کوما ہو سکتا ہے، جس کے بعد موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔


اکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس سے کیسے بچیں؟

اکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس کو روکنے کے لیے کچھ مشورے:


  1. اپنی قوتِ مدافعت بڑھائیں: مضبوط امیونٹی برقرار رکھنے سے کرانک سائنَسائٹس کے ایکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس میں بدلنے سے بچاؤ ہو سکتا ہے۔

  2. تناؤ کم رکھیں: تناؤ سے ہماری قوتِ مدافعت کمزور ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے اکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس ہو سکتا ہے۔

  3. سردی اور دھول والے موسم سے بچیں: سردی یا دھول والی ہوا کے رابطے میں آنے سے سائنَس میں جلن اور سوجن ہو سکتی ہے۔

  4. اچھی صفائی: اچھی صفائی کا خیال رکھنے سے وائرل اِنفیکشن سے بچاؤ ہوسکتا ہے، جو کرانک سائنَسائٹس کو بڑھا سکتے ہیں اور ایکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس کا سبب بن سکتے ہیں۔

  5. سائنَسائٹس کا علاج: کرانک سائنَسائٹس کا وقت پر علاج کرانے سے اکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس ہونے سے بچا جا سکتا ہے۔


قدامات پر عمل کرنے سے آپ کو ایکیوٹ آن کرانک سائنَسائٹس ہونے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے اور سائنَس کی مجموعی صحت بھی بہتر رہتی ہے۔


کا ایک مضمون

 
 
 
  • Facebook
  • Instagram
  • LinkedIn
  • Youtube
సైన్ అప్ చేయండి మరియు అప్‌డేట్లు పొందండి!
సమర్పించినందుకు ధన్యవాదాలు!

office.medyblog@gmail.comలో మమ్మల్ని సంప్రదించండి

© 2021 - 2022 అనఘశ్రీ టెక్నాలజీస్ అండ్ సొల్యూషన్స్ ప్రై.లి. Ltd. అన్ని హక్కులు ప్రత్యేకించబడ్డాయి.

Medyblog వైద్య సలహా, రోగ నిర్ధారణ లేదా చికిత్సను అందించదు.

bottom of page