top of page

سائنوس کیا ہے؟ | سائنوس کے ساتھ ہونے والے مسائل

लेखक की तस्वीर: Dr. Koralla Raja Meghanadh
Dr. Koralla Raja Meghanadh
19 घंटे पहले
6 मिनट पठन

سائنسز آنکھ اور دماغ کے محافظ ہیں۔
سائنَس کیا ہوتا؟سائنَس کیا ہوتے؟ ہم کو سائنَس کیوں چاہیے؟ سائنَس کا مسئلہ کیا ہوتا؟  سائنَس میں کیا کیا مسئلے ہوتے؟ سائنَس کی بیماری کا مسئلہ کیا ہوتا؟
سائنَس کی جگہیں

سائنسز کیا ہوتے ہیں؟

سائنسز ناک کے قریب، دماغ کے آگے اور آنکھوں کے آس پاس موجود ہوا سے بھرے ہوئے خانے یا گڑھے ہوتے ہیں۔


سائنَس میں چھوٹے چھوٹے اوپننگس ریتے، جو ہوا کو اندر باہر آنے جانے دیتے۔ لیکن انہی اوپننگس کے ذریعے ڈسٹ، وائرس، بیکٹیریا اور فنگس جیسے ناغوار پارٹیکلس بھی اندر آ سکتے۔


سائنس میں جو غیر ضروری ذرات جمع ہوجاتے، اُن کو صاف کرنے کے لیے سائنس کی اندر والی تہہ مسلسل فلوئڈ بناتی رہتی۔ یہ فلوئڈ سائنس سے ناک کے راستے گلے میں بہتا رہتا، اور اِس طرح سائنس کو اچھی طرح صاف کرتا رہتا۔

سائنَس کے فنکشنز


ہم کو سائنسز کی ضرورت کیوں پڑتی؟ اگر سائنسز ہی نہ رہیں تو کیا سائنسز کا مسئلہ، سائنسائٹس ختم نہیں ہو جاتا؟


یہ کیویٹیز دماغ اور آنکھوں کے لیے بمپر کا کام کرتی ہیں۔ جب کوئی بندہ آگے کی طرف گرتا ہے، تو شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ اُس کی آنکھ یا دماغ کو نقصان پہنچے۔ سائنَسز اس طرح کی پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ جب ہم آگے کی طرف گرتے ہیں تو وہ خود اس چوٹ کا اثر برداشت کرتے ہیں۔ ہمارا سر بھی ایک گاڑی کے بمپر کی طرح ہے، جو اس طرح بنا ہوا ہے کہ جب ہم آگے کی طرف گرتے ہیں تو آنکھ اور دماغ پر پڑنے والی طاقت کا اثر سائنَسز کی طرف منتقل ہو جائے۔


سائنوسائٹس کیا ہے؟ سائنَس کے مسائل

سائنوسائٹس سائنوس کی دیواروں میں ہونے والا ایک انفیکشن ہے، جس کی وجہ سے سائنوس میں سوجن آجاتی ہے۔ یہ اُس وقت ہوتا ہے جب سائنَس کیویٹی میں فلوئڈ جمع ہوکے وہیں رُک جاتا ہے۔ رُکا ہوا فلوئڈ وائرس، بیکٹیریا اور فنگس کو بڑھنے کا موقع دیتا ہے، جس سے سائنَس کی دیواروں میں انفیکشن ہو جاتا ہے۔


سائنس کے اوپننگس میں تنگی یا ڈرینیج کے راستوں میں مسئلہ ہونے سے سائنس کے اندر پانی جمع ہو سکتا ہے۔ یہ اس وقت بھی ہو سکتا ہے جب سائنس میں ضرورت سے زیادہ پانی بننے لگے، جو الرجی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔


سائنوسائٹس کیسے شروع ہوتا ہے؟

زیادہ تر صورتوں میں، سائنسائٹس اُس وقت ہوتا ہے جب عام نزلہ کا صحیح طریقے سے علاج نہ کیا جائے۔ عام نزلہ ہونے کے ۵ سے ۷ دن بعد یہ اکیوٹ سائنسائٹس میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اکیوٹ سائنسائٹس شروع ہونے کے ساتھ علامات بھی زیادہ خراب ہونے لگتی ہیں۔


سائنسائٹس اُس وقت بھی ہو سکتا ہے جب کسی شخص میں اِن تین میں سے کوئی ایک رسک فیکٹر موجود ہو۔ اِس بارے میں مزید جاننے کے لیے، آپ نیچے دیے گئے ہمارے آرٹیکل کو دیکھ سکتے ہیں۔


"سائنوسائٹس کے کیا علامات ہیں؟"

عام سائنوسائٹس کی علامات

عام طور پر ہونے والے سائنسائٹس کے علامات یہ ہیں:

  1. ناک بہنا

  2. ناک بند ہونا

  3. سر درد

  4. چہرے میں درد

  5. ناک سے گلے کے پچھلے حصے تک بلغم بہنا، جس کی وجہ سے بار بار گلا صاف کرنے کی ضرورت پڑنا۔

  6. گلے میں درد

  7. بار بار کھانسی کے دورے


نایاب سائنوسائٹس کی علامات

بہت کم کیسز میں، جب اِنفیکشن کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، تو آنکھوں سے جُڑے کُچھ سمپٹمز دیکھنے کو مِل سکتے ہیں، جَیسے کہ۔

  1. آنکھ میں لال پن

  2.  آنکھ میں پانی آنا


یہ صرف یہ جاننا ضروری نہیں ہے کہ سائنوسائٹس کی علامات کیا ہیں بلکہ علامات کے رویے کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔


آپ ڈاکٹر کے۔ آر۔ میگھنادھ کا سائنوسائٹس کی علامات پر خاص طور پر لکھا ہوا ہمارا آرٹیکل پڑھ سکتے ہیں۔ اس میں آپ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں کہ اوپر دی گئی علامات کیوں ہوتی ہیں۔


سائنوسائٹس کے مرحلے

سائنوسائٹس کے ۴ مرحلے ہوتے ہیں:

  1. اکیوٹ

  2. سب ایکُوٹ

  3. کرونک

  4. اکیوٹ آن کرونک

سائنوسائٹس کی شروعات اکیوٹ سائنسائٹس سے ہوتی ہے، پھر یہ سب اکیوٹ سائنسائٹس میں تبدیل ہوتی ہے، اور اس کے بعد کرانک سائنوسائٹس ہو جاتی ہے۔ یہ کافی لمبے عرصے تک کرانک سائنوسائٹس کے مرحلے میں رہتی ہے۔ جب بھی امیونٹی کم ہوتی ہے، تو تھوڑے وقت کے لیے دوبارہ اکیوٹ سائنسائٹس ہو جاتی ہے۔ اس حالت کو ایکیوٹ آن کرانک سائنسائٹس کہتے ہیں۔


سائنوسائٹس کا علاج

زیادہ تر سائنوسائٹس کے مریضوں کو ہلکے پھلکے علاج سے ہی آرام آجاتا، لیکن کچھ مریض اور جو لوگ بیماری کو نظرانداز کرتے، اُن کو سائنوس کی سرجری کی ضرورت پڑسکتی۔ جتنی جلدی علاج شروع کرو، اُتنا ہی علاج آسان رہتا۔


علاج ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں مختلف ہوتا ہے، لیکن تشخیص کے لیے ٹیسٹ بھی مختلف ہوتے ہیں۔


یہ سمجھنے کے لیے ہمارا “کیا سائنَس انفیکشن خطرناک ہے؟” والا آرٹیکل دیکھیں کہ سائنَسائٹس کا علاج کرنا کیوں ضروری ہے۔


لیکن، جیسا کہ پہلے کہا گیا، سائنوسائٹس کا علاج کرنا آسان ہے اگر ہم اس کا بروقت علاج کریں، اور چند گھریلو علاج بہت کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔


سائنوسائٹس کے گھریلو علاج

سائنوسائٹس کے لیے چند گھریلو علاج یہ ہیں، جو آپ کو راحت دینے اور انفیکشن کو قابو میں رکھنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

  1. روزانہ چھوٹی لیکن بہت سی ورزش

  2. بھاپ سانس لینا

  3. ہلدی اور دوسرے مصالحوں کے ساتھ ایک چٹکی کالی مرچ

  4. پانی پیتے رئیں

  5. مناسب نیند


ہم آپ کو مزید تفصیلی معلومات کے لیے مضمون "گھریلو علاج کے ساتھ سائنوسائٹس سے نجات" کا مشورہ دیتے ہیں، کیونکہ یہاں کے زیادہ تر نکات خرافات اور غلط فہمیوں کو ختم کر دیں گے اور آپ کو صحت مند زندگی گزارنے میں مدد کریں گے، اس سے قطع نظر کہ آپ کو سائنوسائٹس ہے یا نہیں۔





اکثر پوچھے جانے والے سوالات

جب سائنس کا مسئلہ زیادہ خراب ہوجائے تو کیا ہوتا ہے؟

جب بھی سائنسائٹس زیادہ خراب ہوجائے، تو اِس سے ایسی پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں جیسے

  • دماغ کو ڈھانپنے والی جھلیوں کا انفیکشن (میننجائٹس)

  • دماغ کے اندر کے حصّوں میں انفیکشن (انسیفلائٹس)

  • اوربیٹل سیلولائٹس اور اوربیٹل ایبسس (آنکھوں میں انفیکشن)

  • برونکائٹس اور دمہ

  • لیرینجائٹس (وائس باکس میں انفیکشن)

  • درمیانے کان کا انفیکشن (اوٹائٹس میڈیا) کے بعد اندرونی کان کا انفیکشن

اِن حالات کی وجہ سے یہ ہو سکتا ہے

  • الٹی

  • بلڈ پریشر میں اضافے

  • دل کی دھڑکن میں کمی

  • تیز بخار

  • دورے

  • بے ہوشی

  • موت

  • آنکھ میں درد

  • آنکھ میں سوجن

  • نظر کا چلے جانا

  • آنکھ کی حرکت میں رکاوٹ

  • آپٹک نرو کو نقصان

  • شدید خشک کھانسی

  • سانس کی تکلیف

  • دمہ کے حملے

  • شور سانس لینے

  • سینے کا درد

  • کان بند ہونے جیسا احساس

  • کان میں درد

  • ہلکا بہرا پن

  • کان کا اخراج

  • چکر آنا

  • گِڈّی نیس

  • کان میں غیر معمولی آوازیں آنا، جسے ٹِنائٹس کہتے ہیں

  • آواز میں بھاری پن یا کھردرا پن

  • آواز میں تبدیلی

  • گلے میں درد

  • بات کرتے وقت درد

  • ناقابل سماعت آواز

  • خشک کھانسی

آپ یہاں سائنسائٹس کی وجہ سے ہونے والی پیچیدگیوں کے بارے میں پڑھ سکتے۔

یہاں تک کہ یہ فنگل سائنوسائٹس میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس لیے سائنوس انفیکشن کے لیے جتنا جلدی ہو سکے میڈیکل علاج لینا بہت ضروری ہے، تاکہ آگے ہونے والی ان ممکنہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔


سائنوسائٹس کو کیسے روکا جائے؟

سائنوسائٹس سے بچنے کے لیے عام زکام کا وقت پر علاج کروانا ضروری ہے، کیونکہ اگر زکام کا علاج نہ ہو تو وہ سائنوسائٹس کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، الرجی کو قابو میں رکھنا اور اپنی قوتِ مدافعت اچھی رکھنا بھی سائنوسائٹس سے بچاؤ میں مددگار ہوتا ہے۔

یہاں کچھ گھریلو علاج ہیں جو آپ کو سائنوسائٹس سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوں گے۔


کرانک سائنوسائٹس کی اصل وجہ کیا ہے؟

کرونک سائنسائٹس کی اصل وجہ اکیوٹ اور سب اکیوٹ سائنسائٹس کا صحیح علاج نہ ہونا یا آدھا ادھورا علاج ہونا ہے۔ عام زکام کا وقت پر علاج کرکے، جو سائنسائٹس کی بنیادی وجہ ہے، ہم اس صورتِ حال سے بچ سکتے تھے۔

سائنوسائٹس کے مراحل اور اُن کے برتاؤ کے بارے میں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔


ایکيوٹ سائنوسائٹس کتنا شدید ہوتا ہے؟

ایکیوٹ سائنسائٹس کی شدت ہر آدمی میں الگ الگ ہوتی ہے۔ کبھی کبھی یہ بغیر کسی علاج کے خود ہی ٹھیک ہوجاتی ہے، جبکہ کچھ کیسز میں ڈاکٹر کو دکھانا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن بہت کم کیسز میں ایکیوٹ سائنسائٹس کی وجہ سے دماغ اور آنکھوں میں پیچیدگیاں بھی ہوسکتی ہیں۔

ایکیوٹ سائنسائٹس میں سب اکیوٹ اور کرونک کے مقابلے میں علامات کی تعداد اور شدت زیادہ رہتی ہے۔ لیکن، اِس کا اینٹی بایوٹکس سے علاج ہو سکتا ہے، جبکہ بعد کے اسٹیجز میں سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اگر ایکیوٹ سائنسائٹس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ پہلے سب اکیوٹ اور پھر کرونک سائنسائٹس میں بدل سکتا ہے۔


سائنوسائٹس اور رائنائٹس میں کیا فرق ہے؟

سائنوسائٹس اور رائنائٹس دو الگ الگ بیماریاں ہیں، جن میں بالترتیب سائنَس اور ناک متاثر ہوتے ہیں۔ سائنَس ۳۰ سے ۴۰ ہوا سے بھرے ہوئے خانوں کا ایک جال ہوتا ہے، جو چھوٹے چھوٹے سوراخوں کے ذریعے ناک سے جڑے رہتے ہیں۔


ناک اور سائنَس ایک ہی مشترکہ جھلی سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ایک جگہ کا انفیکشن آسانی سے دوسری جگہ بھی پھیل سکتا ہے۔ بالکل شروع کے مرحلے میں ممکن ہے کہ کسی شخص کو صرف ناک یا سائنَس کے ایک حصے میں مسئلہ ہو، لیکن بہت جلد یہ دوسرے حصے تک بھی پھیل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے سائنَسائٹس اور رائنائٹس کو الگ الگ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے اور دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ سائنَسائٹس اور رائنائٹس، دونوں کا علاج ایک ہی طرح کیا جاتا ہے۔

 
 
 
  • Facebook
  • Instagram
  • LinkedIn
  • Youtube
साइन अप करें और अपडेट रहें!
सबमिट करने के लिए धन्यवाद!

हमसे Office.medyblog@gmail.com पर संपर्क करें

© 2021 - 2022 अनाघाश्री टेक्नोलॉजीज एंड सॉल्यूशंस प्राइवेट लिमिटेड| सभी अधिकार सुरक्षित।

मेडीब्लॉग चिकित्सा सलाह, निदान या उपचार प्रदान नहीं करता है।

bottom of page