top of page

فنگل سائنوسائٹس – اس کے اسباب، علامات اور علاج

लेखक की तस्वीर: Dr. Koralla Raja Meghanadh
Dr. Koralla Raja Meghanadh
4 घंटे पहले
14 मिनट पठन

سائنَس کیا ہوتا ہے؟

سائنَس سر کے اندر موجود چھوٹی چھوٹی خالی جگہیں ہوتی ہیں۔ ہمارے سر میں تقریباً ۴۰ سائنَس ہوتے ہیں، جو الگ الگ شکل اور سائز کے ہوتے ہیں۔ ان سائنَس کے اندر ہوا آتی جاتی رہتی ہے۔ باہر سے آنے والی غیرضروری چیزیں، جیسے بیکٹیریا، وائرس، فنگس اور دھول، ان سائنَس میں جم سکتی ہیں۔ سائنَس میں ایک ایسا نظام ہوتا ہے جو فلوئڈ بناتا ہے اور ان غیرضروری چیزوں کو ناک کے راستے گلے تک پہنچا کر باہر نکال دیتا ہے۔

سائنوسائٹس کیسے ہوتا ہے؟

فنگل سائنوسائٹس کے بارے میں جاننے سے پہلے، آئیے سمجھتے ہیں کہ سائنوسائٹس کیسے ہوتا ہے۔ سائنوسائٹس زیادہ تر اُس وقت ہوتا ہے جب سائنوس کے اندر فلوئڈ جمع ہو کر رک جاتا ہے۔

جب بھی سائنَس میں رطوبت جمع ہو کر رُک جاتی ہے، تو اس میں بیکٹیریا بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا سائنَس کی دیواروں میں انفیکشن پیدا کرتے ہیں، جسے سائنوسائٹس کہا جاتا ہے۔ سائنوسائٹس ہونے کا یہ ایک طریقہ ہے۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کوئی طاقتور بیکٹیریا ناک کے اندر داخل ہو کر، رطوبت کے جمع ہوئے بغیر بھی سائنوسائٹس پیدا کر سکتا ہے۔ عام طور پر اسے رائنوسائنوسائٹس کہا جاتا ہے، جس میں ناک اور سائنَس دونوں میں انفیکشن ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے ناک اور سائنَس کی دیواروں میں سوزش پیدا ہوتی ہے۔ یہ سوزش آگے چل کر رطوبت کے جمع ہونے اور رُکنے کا سبب بن سکتی ہے، اور اس طرح ایک ایسا چکر شروع ہو جاتا ہے جو بار بار چلتا رہتا ہے۔

ایک آدمی کو سائنوسائٹس تین بنیادی وجوہات کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔

  1. الرجی

  2. سائنَس کی ڈرینیج کی راہوں میں جسمانی ساخت کی خرابیاں

  3. کمزور قوتِ مدافعت


 

فنگل سائنسائٹس کیا ہے؟

فنگل سائنسائٹس یا فنگل رائنو سائنسائٹس، فنگس کی وجہ سے ہونے والا سائنس کا انفیکشن ہے۔ فنگس کی قسم کوئی بھی ہو، فنگل سائنوسائٹس کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔

 

فنگل سائنوسائٹس، بیکٹیریا کی وجہ سے ہونے والے سائنوسائٹس کے مقابلے میں کم پایا جاتا ہے۔

 

کبھی کبھی فنگل اور بیکٹیریا کی وجہ سے ہونے والا سائنوسائٹس دونوں ایک ساتھ بھی ہو سکتے ہیں۔ ایک سائنَس میں بیکٹیریا کا انفیکشن ہو سکتا ہے، جبکہ دوسرے سائنَس میں فنگل انفیکشن ہو سکتا ہے۔ ایک ہی شخص کو ایک ساتھ فنگل سائنوسائٹس کی الگ الگ قسمیں بھی ہو سکتی ہیں۔


اتنے سارے ممکنہ عوامل اور ان کے مختلف امتزاج کی وجہ سے صحیح مسئلہ سمجھنا اور تشخیص کرنا تھوڑا مشکل ہو سکتا ہے۔ لیکن ایک دفعہ صحیح تشخیص ہو جائے تو مسئلے کا کامیابی سے علاج کرنے کے امکانات زیادہ بہتر ہو جاتے ہیں۔


فنگل سائنوسائٹس کی اقسام

فنگل سائنوس انفیکشن کو بیماری کے طریقۂ کار کے حساب سے عام طور پر تین قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے، فنگس کی قسم کے حساب سے نہیں۔

 

یہ جاننا بھی دلچسپ ہے کہ ایک شخص کو ایک ہی وقت میں فنگل سائنوس انفیکشن کی ایک سے زیادہ قسمیں بھی ہو سکتی ہیں۔


نان اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس

فنگل رائنو سائنوسائٹس کی تین قسموں میں، نان اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس سب سے زیادہ عام قسم ہے۔ جب کوئی فنگل سائنوسائٹس کے بارے میں بات کرتا ہے، تو عام طور پر اسی نان اِن ویسیو قسم کی بات کی جاتی ہے۔


اس قسم میں فنگس صرف سائنوس کی خالی جگہوں تک محدود رہتا ہے اور ٹشوز کے اندر نہیں جاتا۔ نان اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس میں ہمارا جسم فنگس کی بڑھوتری کے حساب سے تقریباً اتنی ہی رفتار سے کِلر سیلز بناتا رہتا ہے، جو فنگس سے مؤثر طریقے سے لڑتے ہیں۔ ہمارا یہ مدافعتی ردِعمل ایک رکاوٹ کا کام کرتا ہے اور فنگس کو خون میں یا آس پاس کے ٹشوز میں داخل ہونے سے روکتا ہے۔

 

نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔

  1. فنگل بال

  2. الرجک فنگل رائنوسائنوسائٹس (AFRS)

 

فنگل بال کے لچھن نہ کے برابر ہوتے ہیں، جبکہ الرجک رائنوسائنوسائٹس میں لچھن زیادہ ہوتے ہیں۔

 

اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس

نان اِن ویسیو کے برخلاف، اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس میں فنگس ٹشوز کے اندر پھیل جاتا ہے اور صرف سائنَس تک محدود نہیں رہتا۔ اسی لیے یہ نان اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس ایک نایاب قسم کا فنگل انفیکشن ہے اور یہ صرف اُس وقت ہوتا ہے جب کسی شخص کی قوتِ مدافعت کمزور ہو جاتی ہے۔

 

آپ مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کر سکتے ہیں۔

 

فُلمننٹ اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس

اگرچہ فُلمننٹ فنگل اِنفیکشن، اِنویسیو سائنوسائٹس کی ایک قسم ہے، لیکن جب ہم اِنویسیو کہتے ہیں تو عام طور پر ہماری مراد نان فُلمننٹ اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس ہوتی ہے۔ فُلمننٹ فنگل اِنفیکشن ہونے کے لیے جسم کی قوتِ مدافعت بہت زیادہ کمزور ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ایسے اِنفیکشن میں فنگس صرف ٹشوز میں نہیں پھیلتا، بلکہ خون کی نالیوں کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ نان اِنویسیو اور عام اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور جان کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔

 

یہ بات نوٹ کرنا ضروری ہے کہ اِنویسیو یا نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس میں لوگ بغیر علاج کے بھی کئی سال تک رہ سکتے ہیں، حالانکہ بیماری کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے علاج ضروری ہوتا ہے۔ لیکن فلمیننٹ فنگل سائنوسائٹس میں علاج میں صرف ایک دن کی بھی دیر ہو جائے تو حالات بہت زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔ مریض کی آنکھ، جبڑا، بلکہ جان بھی جا سکتی ہے۔ فنگس اتنی تیزی سے بڑھتی ہے کہ صرف چند گھنٹوں میں دُگنی ہو سکتی ہے۔ اگر فوراً اور بھرپور علاج نہ کیا جائے تو موت کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، اور علاج کے بغیر کسی معجزے کی امید رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی لیے بیماری کی تصدیق ہونے سے پہلے ہی، صرف شک کی بنیاد پر، طاقتور اینٹی فنگل دوائیں آئی وی کے ذریعے دی جاتی ہیں، کیونکہ ڈاکٹر مریض کی جان کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ جب بیماری کی تصدیق ہو جاتی ہے تو ڈی برائیڈمنٹ سرجری شروع کی جاتی ہے۔ کم از کم دو سرجریاں ضروری ہوتی ہیں، جبکہ زیادہ سے زیادہ سرجریوں کی کوئی مقررہ حد نہیں ہوتی۔ مصنف کے ریکارڈ میں ایک ہی مریض کی ۲۰ سے زیادہ سرجریاں کی جا چکی ہیں۔

 

فلمیننٹ فنگل انفیکشن نیچے دیے گئے فنگس کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔

  1. میوکر

  2. کینڈیڈا

  3. ایسپرجِلوسِس

 

میوکور کی وجہ سے ہونے والی میوکورمائکوسس، تیزی سے پھیلنے والے فنگل انفیکشن کی سب سے عام قسم ہے۔ اِسے عام طور پر بلیک فنگس انفیکشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔

 

کووِڈ-۱۹ اُن بیماریوں میں سے ایک ہے جو فُلمننٹ فنگل سائنوسائٹس کو ٹرِگر کر سکتی ہے۔ اِنہیں عام طور پر پوسٹ کووِڈ بلیک فنگس اور پوسٹ کووِڈ وائٹ فنگس کے کیسز کے نام سے جانا جاتا ہے، جن میں کینڈیڈا یا ایسپرجلوسس کی وجہ سے فُلمننٹ سائنوسائٹس ہوتا ہے۔

 

کووِڈ سے پہلے، فُلمننٹ فنگل سائنوسائٹس، اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کے مقابلے میں بھی بہت کم ہوتا تھا۔

 

فنگل سائنوسائٹس کی وجوہات

فنگل سائنوسائٹس لمبے عرصے سے چلی آ رہی کرونک بیکٹیریل سائنوس انفیکشن کی وجہ سے ہو سکتی ہے، یا جب کسی شخص کی قوتِ مدافعت کمزور ہو تو بھی یہ ہو سکتی ہے۔

 

کرونک بیکٹیریل سائنوسائٹس کا نان اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس میں بدلنا


فنگل سائنوسائٹس کیوں ہوتا ہے، اس کی وجہ سمجھانے کے لیے کئی تھیوریز بتائی گئی ہیں۔ لیکن ایک عام طور پر مانی جانے والی تھیوری یہ ہے کہ جب سائنَسز کے اندر فلوئڈ جمع ہو کر رُک جاتا ہے، تو اس میں بیکٹیریا بڑھنے لگتے ہیں۔ بیکٹیریا کو ختم کرنے کے لیے ہمارا امیون سسٹم WBCs بناتا ہے۔ یہ WBCs انفیکٹڈ سائنَسز کے اندر موجود سیکریشنز میں پہنچ جاتے ہیں۔ WBCs کامیابی سے بیکٹیریا کو ختم کر دیتے ہیں، لیکن اس کے بعد وہ واپس خون میں نہیں جا سکتے۔ اس لیے عام طور پر ان کو نیچرل ڈرینیج کے ذریعے سائنَسز سے باہر نکل جانا چاہیے۔ لیکن سائنَسز میں انفیکشن کی وجہ سے سوجن آ چکی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے نیچرل ڈرینیج پہلے ہی بلاک ہو چکی ہوتی ہے۔ اس لیے اس فلوئڈ کے لیے، جس میں بہت سارے مردہ بیکٹیریا اور WBCs موجود ہوتے ہیں، سائنَس سے باہر نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ فلوئڈ پیپ میں بدل جاتا ہے اور فنگس کے لیے خوراک بن جاتا ہے۔ کسی بھی جاندار کو زندہ رہنے کے لیے خوراک اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح کے سائنَسز فنگس کی گروتھ کے لیے ایک آئیڈیل جگہ بن جاتے ہیں۔ اس لیے جو فنگس ہمارے جسم میں داخل ہوتا ہے، وہ ان سائنَسز میں بڑھنے لگتا ہے اور فنگل سائنوسائٹس کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ تھیوری فنگل سائنوسائٹس کی سب سے عام قسم، یعنی نان اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس، کے بارے میں ہے۔ فنگل سائنوسائٹس کی دوسری قسمیں نسبتاً نایاب ہوتی ہیں۔

 

کمزور قوتِ مدافعت

باقی دو قسمیں، اِن ویسیو اور فُلمننٹ اِن ویسیو، اُس وقت ہوتی ہیں جب آپ کے مدافعتی نظام پر اثر پڑتا ہے۔ اگر آپ کی قوتِ مدافعت کم ہو جائے تو نان اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس، اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ یا پھر اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس ایک بالکل نیا فنگل انفیکشن بھی ہو سکتا ہے۔

 

فلمننٹ اِنویسیو

فلمننٹ اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس زیادہ تر ایک فنگس کی وجہ سے ہوتا ہے جس کو میوکور کہتے ہیں۔ فلمننٹ اِنفیکشن کرنے والی دوسری دو فنگس کینڈیڈا اور ایسپرجلوسس ہیں۔ میوکور ایک فنگس ہے جو سڑے ہوئے پھلوں اور سبزیوں پر پایا جاتا ہے۔ پیاز پر جو کالا پاؤڈر جیسا مادہ نظر آتا ہے، وہ بھی میوکور ہی ہوتا ہے۔ یہی فنگس ایک شدید اِنفیکشن کا سبب بن سکتا ہے جسے میوکورمائیکوسس کہتے ہیں، اور عام طور پر اسے بلیک فنگس کے نام سے جانا جاتا ہے۔

 

یہ فنگس ہمیں آسانی سے مل جاتا ہے، اور اس انفیکشن کی وجہ بننے والے میوکر فنگس کے اسپورز ہم روزانہ سانس کے ذریعے اندر لیتے رہتے ہیں۔ ہمارا جسم اس فنگس سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتا ہے، اسی لیے ہمیں یہ جان لیوا انفیکشن نہیں ہوتا۔ صرف اُس وقت یہ فنگس ہمارے جسم میں انفیکشن پیدا کر سکتا ہے جب ہماری قوتِ مدافعت بہت زیادہ کمزور ہو۔

 

یہ دیکھا گیا ہے کہ فُلمننٹ فنگل انفیکشن زیادہ تر اُن لوگوں میں ہوتا ہے جن میں نیچے دی گئی حالتیں پائی جاتی ہیں۔

  • امیون سپریسنٹ دوائیاں لینے والے آرگن ٹرانسپلانٹ کے مریض

  • اینٹی کینسر دوائیاں لینے والے کینسر کے مریض

  • امیون ڈیفیشنسی سنڈروم والے مریض، مثلاً ایڈز

  • کئی مہینوں سے سٹیرائڈز لینے والے مریض

  • شوگر کنٹرول میں نہ رہنے والے مریض

 

فنگل سائنوس انفیکشن کی علامات

فنگل سائنوس انفیکشن کی علامات، فنگل سائنوسائٹس کی قسم پر منحصر ہوتی ہیں۔ یہ بیماری کی نوعیت کے ساتھ ساتھ، بعض صورتوں میں فنگس کی قسم پر بھی منحصر ہوتی ہیں۔


نان اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس کی علامات

  • ناک بہنا

  • ناک بند ہونا

  • سر درد

  • چہرے کے حصّوں میں درد

  • ناک سے گلے کے پچھلے حصے میں بلغم گرنے کی وجہ سے بار بار گلا صاف کرنا

  • گلے میں خراش یا تکلیف محسوس ہونا

  • بار بار کھانسی آنا

نان اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس کے شروع کے مرحلے میں اس کی علامات بیکٹیریا یا عام سائنوس انفیکشن جیسی ہی لگتی ہیں۔ یہ علامات ہلکی پھلکی ہوسکتی ہیں یا کبھی بالکل بھی نظر نہیں آتیں، جس کی وجہ سے نان اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس کو دوسری سائنوس کی تکالیف سے الگ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے۔ اگر علامات نظر بھی آئیں تو اکثر ان کو سائنوس کے اندر فنگس کی موجودگی کے بجائے بیکٹیریل سائنوسائٹس کی وجہ سمجھا جاتا ہے۔

 

اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کی علامات

  • آنکھ، ناک، دانت یا گال میں درد اور/یا سوجن

  • نظر میں خرابی، جیسے ڈبل نظر آنا یا نظر کمزور ہونا

  • اگر انفیکشن جبڑے کی ہڈی تک پھیل جائے تو دانت ہلنے لگ سکتے ہیں

  • گال میں سن ہونے کا احساس ختم ہو جانا

  • بہت کم صورتوں میں، جب انفیکشن جلد تک پھیل جائے تو چہرے پر سوجن آ سکتی ہے

  • اگر انفیکشن دماغ تک پہنچ جائے تو دماغ کے متاثرہ حصے کے کنٹرول میں رہنے والے جسم کے خاص حصے پر اثر پڑ سکتا ہے

 

انویسیو فنگل سائنوسائٹس کے بارے میں مزید تفصیل جاننے کے لیے ہمارا آرٹیکل پڑھیں۔

 

فُلمننٹ فنگل سائنوسائٹس کی علامات

فُلمننٹ فنگل سائنوسائٹس کے انفیکشن کی علامات، فنگس کی قسم کوئی بھی ہو، تقریباً ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔

 

سب سے پہلا لچھن بہت زیادہ چہرے کا درد ہوتا ہے، اس کے بعد دوسرے لچھن آتے ہیں۔ اگر آدمی فوراً ہاسپٹل پہنچ جائے اور فوراً علاج شروع ہو جائے تو بچنے کے چانس بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آپ دوسرے لچھن آنے کا انتظار کرتے ہیں تو بچنے کے چانس بہت تیزی سے کم ہوتے جاتے ہیں۔

 

  • ناک میں شدید درد

  • دانت میں شدید درد

  • آنکھ میں شدید درد

  • ناک بند ہونا

  • ناک سے پانی یا رطوبت آنا

  • ڈبل نظر آنا

  • نظر کمزور ہونا

  • آنکھ، ناک یا گال پر سوجن

  • آنکھ سے پانی آنا

  • آنکھ کا لال ہونا

 

بعد کے اسٹیجز میں ہی علامات میں فرق نظر آتا ہے۔ کینڈیڈا، ایسپرجیلوسس اور میوکورمائیکوسس میں بالترتیب سفید، سرمئی اور کالی ناک کی رطوبت آتی ہے۔ یہ ایک نایاب علامت ہے اور ضروری نہیں کہ ہر کسی میں یہ علامت نظر آئے۔

 

فنگل سائنوسائٹس کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟

فنگل سائنوسائٹس کا علاج کرنے میں سب سے مشکل کام اس کی صحیح تشخیص کرنا ہوتا ہے۔

جس طرح اس کے سِمٹمس الگ الگ ہو سکتے ہیں، اسی طرح فنگل سائنوسائٹس کی تشخیص بھی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ فنگل سائنوس انفیکشن کس قسم کا ہے۔


نان اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس

صرف علامات کی بنیاد پر نان اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس کی پہچان کرنا مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کی علامات اکثر الرجی جیسی لگتی ہیں یا بیکٹیریا کی وجہ سے ہونے والے سائنوسائٹس کی علامات سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔ نان اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس کی صحیح تشخیص کے لیے ڈاکٹر ناک کی اینڈوسکوپی، سی ٹی اسکین، فنگل اسمیئر اور کلچر ٹیسٹ کرتے ہیں۔ اس طرح کے تفصیلی ٹیسٹ سے ڈاکٹر یہ صحیح طور پر معلوم کر پاتے ہیں کہ سائنوس انفیکشن کس قسم کی فنگس کی وجہ سے ہوا ہے۔

 

انویسیو فنگل سائنوسائٹس کی تشخیص

انویسیو فنگل سائنوسائٹس کی تشخیص کرنا ایک پیچیدہ کام ہوتا ہے، جس کے لیے بایوپسی کی ہسٹوپیتھالوجی جانچ ضروری ہوتی ہے۔ بایوپسی ایک چھوٹا سا سرجیکل پروسیجر ہوتا ہے، جس میں ای این ٹی سرجن جسم کے متاثرہ حصے سے تھوڑا سا ٹشو نکال کر جانچ کے لیے بھیجتے ہیں۔ اس میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ بایوپسی کے لیے صحیح جگہ کون سی ہے، یہ معلوم کیا جائے۔ ناک کی اینڈوسکوپی، ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین جیسے ٹیسٹ متاثرہ جگہ کا پتہ لگانے میں مدد کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ای این ٹی ڈاکٹر کی مہارت بھی بہت اہم ہوتی ہے تاکہ جسم کے متاثرہ حصے کی صحیح نشاندہی کی جا سکے۔

 

مزید تفصیل کے لیے اِدھر کلک کریں۔

 

فلمیننٹ سائنوسائٹس کی تشخیص

فلمیننٹ سائنوسائٹس کی تشخیص کے لیے عام طور پر ناک کی اینڈوسکوپی کی جاتی ہے، جس کے ذریعے ناک اور سائنَس کے راستوں کو اندر سے دیکھا جاتا ہے۔ ناک کی اینڈوسکوپی کے دوران، متاثرہ ٹشو کا تھوڑا سا حصہ احتیاط سے کھرچ کر یا نکال کر لیا جاتا ہے۔ اس ٹشو کے نمونے کو تفصیلی جانچ کے لیے لیبارٹری بھیجا جاتا ہے۔ لیبارٹری میں ہونے والی جانچ فلمیننٹ سائنوسائٹس کی تشخیص کی تصدیق کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

 

تشخیص کے بارے میں یہاں پڑھیں۔

 

فنگل سائنوسائٹس کا علاج

فنگل سائنوسائٹس کے علاج میں یہ شامل ہو سکتا ہے:

  1. سرجری

  2. اینٹی فنگل دوائیاں — صرف منہ سے لینے والی یا منہ سے لینے والی اور آئی وی دونوں

  3. الرجی کی دوائیاں


البتہ، سرجری کے خاص مقصد اور اینٹی فنگل دوائیاں کس طرح استعمال کرتے ہیں، یہ زیادہ تر فنگل سائنوسائٹس کی قسم پر منحصر رہتا۔

 

نان اِنویسیو فنگل سائنسائٹس کا علاج

چونکہ فنگس سائنس کے اندر جمع رہتا ہے، اس لیے اینٹی فنگل دوائیاں اُس تک نہیں پہنچ پاتیں۔ اسی وجہ سے نان اِنویسیو فنگل سائنسائٹس میں سرجری کرنا لازمی ہوتا ہے۔


سرجری کے ذریعے فنگس کے زیادہ مقدار میں جمع ہوئے حصے کو نکالا جاتا ہے، تاکہ آگے مزید فلوئڈ جمع نہ ہو۔ اس کے علاوہ، سائنس سے فلوئڈ نکلنے کے راستوں میں بھی کچھ ضروری درستگیاں کی جاتی ہیں۔


اگر کسی مریض کو فنگس سے الرجی کا ردِعمل ہوتا ہے، یعنی اَلرجک فنگل رائنو سائنسائٹس والی قسم ہے، تو علامات کو قابو میں رکھنے کے لیے الرجی کی دوائیاں بھی دی جاتی ہیں۔

 

اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کا علاج

اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کے علاج میں منہ سے کھانے والی اینٹی فنگل دوائیں سب سے اہم رہتی ہیں۔ اس میں فنگس کو نکالنے کے لیے سرجری، جیسے ڈیبرائیڈمنٹ، کی ضرورت نئیں پڑتی۔ کیوں کہ فنگس ٹشوز میں موجود رہتی ہے، اس لیے دوائیں اس پر اچھے سے اثر کرتی ہیں۔


لیکن، بعض دفعہ ایک ہی وقت میں مریض کو اِنویسیو اور نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس دونوں ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کی وجہ سے سرجری کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

 

فلمیننٹ فنگل سائنوسائٹس کا علاج

فلمیننٹ فنگل سائنوسائٹس کے علاج میں فنگس کے انفیکشن کو ختم کرنے کے لیے کئی بار سرجری کرکے متاثرہ حصے کی صفائی (ڈیبرائیڈمنٹ) کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ آئی وی (نس کے ذریعے دی جانے والی) اور منہ سے کھانے والی اینٹی فنگل دوائیں بھی دی جاتی ہیں۔ مریض کی حالت کے حساب سے علاج کافی تیزی اور سختی سے کیا جاتا ہے۔ اگر شروع کے مرحلے میں ہی علاج شروع نہ کیا جائے اور علاج میں پوری تیزی نہ دکھائی جائے، تو مریض کے پاس زندہ رہنے کے لیے زیادہ وقت نہیں رہتا۔


تحریر کردہ


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا فنگل سائنوسائٹس ایمرجنسی ہے؟

ہاں، اگر فنگل سائنوسائٹس کی قسم فلمیننٹ اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس ہے تو یہ ایک ایمرجنسی ہے۔ اگر یہ اِنویسیو یا نان اِنویسیو قسم کا ہے تو بھی ایمرجنسی بن سکتا ہے۔


فلمیننٹ فنگل سائنوسائٹس ایک ایسی بیماری ہے جو بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔ یہ دماغ تک پہنچ کر چند ہفتوں میں مریض کی جان بھی لے سکتی ہے۔ اس میں فنگس کی بڑھوتری چند گھنٹوں میں دوگنی ہو سکتی ہے۔ فنگل سائنوسائٹس کی یہ قسم بہت کم دیکھی جاتی ہے، اور یہ صرف اُن لوگوں میں ہو سکتی ہے جن کی قوتِ مدافعت کمزور ہو۔


اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس بھی بہت کم ہوتا ہے، لیکن یہ آہستہ آہستہ پھیلتا ہے، اس لیے فوراً ایمرجنسی نہیں ہوتا۔ یہ جان لیوا ضرور ہے، لیکن دماغ تک پہنچنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔


نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس صرف اُس وقت ایمرجنسی بن سکتا ہے جب یہ آنکھوں اور دماغ کو متاثر کرے۔

سائنَس میں فنگس کو کیا ختم کرتا ہے؟

اینٹی فنگل دوائیاں سائنَس میں موجود فنگس کو ختم کر سکتی ہیں، لیکن یہ فنگل انفیکشن کی قسم پر منحصر ہے۔


بغیر پھیلنے والے اور تیزی سے شدید ہونے والے انفیکشن میں اینٹی فنگل دوا علاج کا بنیادی طریقہ نہیں ہوتی۔ لیکن اِنویسیو فنگس کے معاملے میں اینٹی فنگل دوا علاج کا بنیادی طریقہ ہوتی ہے۔


سائنَس کی فنگس کی بغیر پھیلنے والی قسموں میں فنگل بال اور الرجک فنگل رائنوسائنوسائٹس شامل ہیں۔ فنگل بال کے علاج کے لیے سرجری کرکے فنگس نکالنا ضروری ہوتا ہے، ساتھ میں اینٹی فنگل دوا بھی دی جاتی ہے۔ الرجک فنگل رائنوسائنوسائٹس میں اینٹی الرجک دوائیں اور اینٹی فنگل دوائیں ضروری ہوتی ہیں۔


اِنویسیو کیسز میں فنگس ٹشو کے اندر موجود ہوتی ہے اور اینٹی فنگل دوا خون کے ذریعے آسانی سے وہاں پہنچ سکتی ہے۔ اِن کیسز میں سرجری کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ صرف اینٹی فنگل دواؤں سے بھی اس بیماری کا مؤثر طریقے سے علاج کیا جا سکتا ہے۔

فلمیننٹ فنگل سائنوسائٹس، جیسے بلیک فنگس یا وائٹ فنگس، بہت تیزی سے پھیلتا ہے۔ طاقتور اینٹی فنگل دوائیاں فنگس کو ختم تو کر سکتی ہیں، لیکن فنگس جتنی تیزی سے بڑھتا ہے، اُتنی تیزی سے دوائیاں اثر نہیں کر پاتیں۔ ایسے معاملوں میں سرجری کروانا لازمی ہو جاتا ہے۔ مزید جانکاری کے لیے ہمارا مائیکورمائیکوسس کے علاج پر آرٹیکل دیکھیں۔

کیا فنگل سائنسائٹس کے لیے سرجری ضروری ہوتی ہے؟

ہاں، اگر فنگل سائنسائٹس نان اِن ویسیو یا فلمیننٹ اِن ویسیو قسم کی ہو تو سرجری کی ضرورت پڑتی ہے۔ عام اِن ویسیو فنگل سائنسائٹس میں صرف تشخیص کے لیے ایک چھوٹی سی بایوپسی لی جاتی ہے، علاج کے لیے سرجری کی ضرورت نہیں ہوتی۔


کیا سی ٹی اسکین سے فنگل سائنسائٹس کا پتہ چل سکتا ہے؟

سی ٹی اسکین سے سائنسز کے اندر موجود فنگل مواد نظر آ سکتا ہے اور اس سے تشخیص کرنے میں مدد ملتی ہے۔

سائنسز کے اندر سفید رنگ کے شیڈوز کے ساتھ گرے شیڈو نظر آ سکتا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے آپ ہمارا ڈائگنوسس والا آرٹیکل دیکھ سکتے۔


فنگل سائنوسائٹس کا علاج کیسے کرتے ہیں؟

فنگل سائنوسائٹس کا علاج اُس کی قسم کے حساب سے الگ الگ رہتا۔ فنگل سائنوسائٹس کو تین اہم قسموں میں بانٹا جاتا۔

  1. نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس: چونکہ فنگس سائنَس کے اندر رہتا ہے اور اینٹی فنگل دوائیاں وہاں تک نہیں پہنچ پاتیں، اس لیے نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس میں سرجری کرنا لازمی ہے۔ نان اِن ویسیو فنگل سائنسائٹس کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔

    1. فنگل بال: ڈاکٹر زیادہ مقدار میں جمع ہوئے فنگس کو نکالنے کے لیے سرجری کرتے ہیں۔ ساتھ ہی، سائنَس کے پانی کی نکاسی کے راستوں کو بھی درست کرتے ہیں تاکہ اندر رطوبت جمع نہ ہو۔

    2. الرجک فنگل رائنو سائنوسائٹس: الرجک فنگل رائنو سائنوسائٹس کے معاملے میں، الرجی کم کرنے والی دوائیاں اور سرجری دونوں کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ، اینٹی الرجی دوائیاں استعمال کرنے سے زیادہ تر علامات ختم ہو جاتی ہیں یا کافی کم ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر سائنَس میں فنگس زیادہ مقدار میں موجود ہو تو علاج کے ساتھ ڈاکٹر اینٹی فنگل دوائیاں بھی تجویز کر سکتے ہیں۔

  2. اِنویسیو فنگل سائنسائٹس: اِنویسیو فنگل سائنسائٹس کے علاج میں فنگس کو ختم کرنے والی دوائیاں استعمال کی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر فنگل انفیکشن کو ختم کرنے کے لیے اینٹی فنگل دوائیاں دیتے ہیں۔ اِنویسیو فنگل سائنسائٹس میں ڈاکٹرز کو ڈیبرائیڈمنٹ جیسے آپریشن کے طریقے نہیں اپنانے چاہئیں۔

  3. فُلمِننٹ فنگل سائنوسائٹس: فُلمِننٹ فنگل سائنوسائٹس کے علاج میں فنگس کے انفیکشن کو ختم کرنے کے لیے کئی دفعہ سرجری کرکے خراب ٹشو نکالنا (ڈی برائیڈمنٹ) اور اینٹی فنگل دوائیاں دینا شامل رہتا۔ مریض کی حالت دیکھ کے علاج تیزی سے اور زور دار طریقے سے کیا جاتا۔ اگر علاج میں سختی اور تیزی نہیں رکھی تو مریض کے پاس زیادہ دن زندہ رہنے کا وقت نہیں رہتا۔


 
 
 
  • Facebook
  • Instagram
  • LinkedIn
  • Youtube
साइन अप करें और अपडेट रहें!
सबमिट करने के लिए धन्यवाद!

हमसे Office.medyblog@gmail.com पर संपर्क करें

© 2021 - 2022 अनाघाश्री टेक्नोलॉजीज एंड सॉल्यूशंस प्राइवेट लिमिटेड| सभी अधिकार सुरक्षित।

मेडीब्लॉग चिकित्सा सलाह, निदान या उपचार प्रदान नहीं करता है।

bottom of page