top of page

فنگل سائنسائٹس کی قسمیں

Foto del escritor: Dr. Koralla Raja Meghanadh
Dr. Koralla Raja Meghanadh
hace 5 horas
8 min de lectura

فنگل سائنوسائٹس ایک ایسی بیماری ہے جو فنگس کی وجہ سے ہوتی۔ فنگس ہمارے آس پاس ہر جگہ موجود رہتا اور روزانہ ہمارے جسم میں بھی داخل ہوتا رہتا۔ لیکن عام طور پر انسان کے جسم پر حملہ کرنے کی طاقت اِس میں نہیں رہتی۔ مگر جب کسی آدمی کی قوتِ مدافعت کمزور ہو جاتی یا سائنَس میں کافی دنوں تک پانی یا رطوبت جمع ہو کر رُک جاتی، تو فنگس اُس میں بڑھنے لگتا اور فنگل سائنوسائٹس کا سبب بنتا۔ بیکٹیریا کی وجہ سے ہونے والے سائنوسائٹس اور الرجی والے سائنوسائٹس کے مقابلے میں فنگل سائنوسائٹس کم پایا جاتا۔ اِس آرٹیکل میں ہم فنگل سائنوسائٹس کی تین الگ الگ قسموں کے بارے میں تفصیل سے جانیں گے۔ ہر قسم کی اپنی الگ پہچان، علامات اور علاج کے طریقے ہوتے۔

 

یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ایک ہی بندے کو ایک وقت میں الگ الگ قسم کے سائنَس انفیکشنز ہو سکते۔ مختلف سائنَسز میں بیکٹیریا اور فنگس کے انفیکشن ایک ساتھ بھی رہ سکتے۔ اس کے علاوہ، فنگس کا انفیکشن اِنویسیو (جسم کے اندر ٹشوز میں پھیلنے والا) اور نان اِنویسیو (ٹشوز میں نہ پھیلنے والا) دونوں قسم کا ایک ہی وقت میں ہو سکता۔ ایسے کئی الگ الگ کمبینیشنز ہو سکنے کی وجہ سے صحیح بیماری کی تشخیص کرنا کافی مشکل ہو جاتا۔ اِسی واسطے تشخیص علاج کے عمل میں ایک مشکل مرحلہ رہتا۔ لیکن جب صحیح تشخیص ہو جاتی، تو مسئلے کا کامیابی سے علاج ہونے کے امکانات کافی بڑھ جاتے۔


فنگل سائنسائٹس کی قسمیں

فنگل سائنوسائٹس کی قسمیں

بیماری کس طرح برتاؤ کرتی ہے، اس حساب سے فنگل سائنوسائٹس کو تین قسموں میں بانٹا جا سکتا۔ یہ تقسیم انفیکشن پیدا کرنے والی فنگس کی خاص قسم سے الگ ہے۔

 


نان اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس

نان اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس اُس وقت ہوتا جب فنگس سائنَس کیویٹی کے اندر رہتا، لیکن سائنَس کی دیوار یا اُس کے آس پاس کے ٹشو میں اندر تک نہیں پھیلتا۔ اِس قسم میں، اپنے جسم کا اِمیون سسٹم سائنَس کے اندر ایک حفاظتی تہہ بناتا تاکہ فنگس آگے نہ پھیل سکے۔ لیکن جب اِمیونٹی کمزور ہو جاتی، جیسے وائرل انفیکشن، کنٹرول میں نہ رہنے والی ذیابیطس وغیرہ کے وقت، تو فنگس کے ٹشو کے اندر گھس جانے کا خطرہ رہتا۔ اِس کی وجہ سے اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس ہو سکتا۔ فنگل سائنوسائٹس کی تین قسموں میں نان اِن ویسیو فنگل سائنوسائٹس سب سے زیادہ عام ہے۔ عام طور پر اِس کو سب سے کم خطرناک قسم مانا جاتا، اور یہ کافی لمبے عرصے تک برقرار رہ سکتا۔

 


وجہ

فنگل سائنوسائٹس کیسے شروع ہوتا، اس کے بارے میں کافی تھیوریز ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ قابلِ یقین تھیوری یہ ہے کہ شروع میں سائنوسائٹس بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا۔ ہماری امیونٹی اس انفیکشن سے لڑنے کی کوشش کرتی، جس کے لیے وہ ڈبلیو بی سیز (WBCs) کو سائنَسز کے اندر بھیجتی۔ جب بیکٹیریا کے ساتھ لڑائی ختم ہو جاتی، تب ڈبلیو بی سیز اور مرے ہوئے بیکٹیریا واپس خون میں نہیں جا سکتے۔ اس لیے اُن کے باہر نکلنے کا ایک ہی راستہ رہتا، یعنی سائنَسز کا ڈرینیج والا راستہ۔ لیکن پہلے سے موجود انفیکشن کی وجہ سے یہ راستہ بند ہو جاتا۔ اس طرح مرے ہوئے ڈبلیو بی سیز اور بیکٹیریا فنگس کے لیے غذا بن جاتے، جس سے فنگس کو بڑھنے کے لیے ایک بہترین ماحول مل جاتا۔


فنگل سائنوسائٹس صرف چند سائنَسز میں ہو سکتا، جبکہ باقی سائنَسز میں بیکٹیریا کا انفیکشن ہو سکتا یا کوئی انفیکشن نہیں بھی ہو سکتا۔

 

ذیلی قسمیں

نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کی دو قسمیں ہیں:

  1. الرجک فنگل رائنو سائنوسائٹس

  2. سائنَس میں فنگل بال

 

الرجک فنگل رائنو سائنوسائٹس

الرجک فنگل رائنو سائنوسائٹس میں زیادہ تر مسئلہ الرجی کی وجہ سے ہوتا۔ فنگس کی مقدار بہت کم رہتی، لیکن باڈی اس کے خلاف ضرورت سے زیادہ ردِعمل دیتی۔ عام طور پے، الرجک فنگل رائنو سائنوسائٹس میں فنگس بہت کم ہونے کے باوجود باڈی کی طرف سے شدید الرجک ری ایکشن ہوتا۔ اگر ایسا ری ایکشن نہیں ہوا تو فنگس کی تعداد بڑھنے لگتی۔

 


سائنَس میں فنگل بال

فنگل بال میں فنگس کا مادہ بہت زیادہ جمع ہو جاتا، لیکن جسم اُس کے خلاف خاص ردِعمل نہیں دیتا۔ باہر سے آنے والے جراثیم کے خلاف جسم دو طرح سے ردِعمل دیتا: ایک الرجی کی شکل میں، اور دوسرا اُن جراثیم کو ختم کرنے کی شکل میں۔ اگر جسم کا الرجی والا ردِعمل زیادہ ہو تو الرجک فنگل رائنوسائنوسائٹس ہو جاتا۔ لیکن اگر جسم کا ردِعمل بہت ہی کم ہو تو فنگس جمع ہوتے ہوتے فنگل بال کی شکل لے لیتا۔

 

علامات

جیسے کہ پہلے بتائے، فنگس کی وجہ سے آنے والی علامات، نان اِنویسیو فنگل انفیکشن کی قسم پر منحصر رہتی ہیں۔


فنگل بالز میں کوئی خاص علامات نہیں رہتیں یا بہت ہلکی علامات رہتی ہیں۔ اگر کوئی علامات رہیں بھی تو وہ زیادہ تر بیکٹیریا کی وجہ سے ہونے والی سائنوسائٹس کی وجہ سے رہتی ہیں۔


دوسری طرف، الرجک فنگل رائنو سائنوسائٹس میں علامات بہت زیادہ شدید ہو سکتی ہیں، حالانکہ اندرونی طور پر بیماری، فنگل بال کے مقابلے میں اتنی شدید ہونا ضروری نئیں۔


نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس میں نظر آنے والی علامات کی فہرست یہ ہے۔

  • ناک بہنا

  • ناک بند ہونا

  • سر درد

  • چہرے میں درد

  • ناک سے ریشہ گلے کے پچھلے حصے میں اترنا، جس کی وجہ سے بار بار گلا صاف کرنا پڑتا

  • گلے میں خراش

  • بار بار کھانسی کے دورے پڑنا

 


تشخیص

نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کی تشخیص صرف علامتوں کو دیکھ کے کرنا مشکل ہو سکتا، خاص کر فنگل بال کے کیسز میں۔ کیوں کہ اِس کی علامتیں اکثر الرجی یا بیکٹیریا کی وجہ سے ہونے والے سائنوسائٹس کی علامتوں سے ملتی جلتی رہتی ہیں۔ ڈاکٹر عام طور پر تشخیص کے لیے نیزل اینڈوسکوپی اور سی ٹی اسکین کا سہارا لیتے۔ اگر اینڈوسکوپی کے دوران فنگس کا مادہ نظر آتا تو فنگل انفیکشن کی تصدیق کرنے کے لیے کلچر ٹیسٹ اور مائیکروسکوپ کے ذریعے جانچ کی جاتی۔ اِس کے علاوہ، فنگل سمئیر، جیسے پوٹاشیم ہائیڈرو آکسائیڈ (KOH) سمئیر، سے فنگس کی موجودگی کا پتہ چلتا۔ اِس سے فنگس کی قسم کے بارے میں بھی ایک اچھا اندازہ ملتا، جو نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کے علاج کا پلان بنانے میں مدد کرتا۔


یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ فنگل بال سائنوسائٹس کے کئی کیسز اتفاق سے سی ٹی اسکین کے دوران سامنے آتے، جو کسی دوسری پریشانی کی جانچ کے لیے کیا گیا ہوتا۔ ایسے کیسز میں مریض کو پتا بھی نہیں رہتا کہ اُن کو سائنَس میں انفیکشن ہے۔ لیکن الرجک فنگل رائنو سائنوسائٹس میں علامتیں کتنی شدید ہیں، اِس بات سے کان، ناک اور گلے کے اسپیشلسٹ (ENT) کو بیماری کی حالت سمجھنے میں کافی مدد ملتی۔


علاج

نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس، جو سائنَس کے اندر ہوتا، اُس کے واسطے سائنَس سرجری ضروری رہتی، کیوں کہ اینٹی فنگل دوائیاں متاثرہ جگہ تک پہنچ نہیں پاتیں۔


فنگل بال سائنوسائٹس

ڈاکٹر فنگس اور باقی جمع ہوئے پانی کو نکالنے کے لیے سائنَس کی سرجری کرتے۔ آگے دوبارہ پانی جمع نہ ہو، اس کے لیے سائنَس سے پانی نکلنے کے راستے میں بھی ضروری درستگیاں کرتے۔


الرجک فنگل رائنو سائنوسائٹس

اس کے علاج کے واسطے اینٹی الرجی دوائیاں اور سائنَس کی سرجری دونوں کا مشورہ دیا جاتا۔ اینٹی الرجی دوائیاں لینے سے اکثر تکلیف کم ہو جاتی، لیکن اگر سائنَس میں فنگس کی مقدار زیادہ باقی رہتی تو اینٹی فنگل دوائیاں بھی دی جا سکتی ہیں۔

 

اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس

اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس اُس وقت ہوتا جب فنگس کا انفیکشن سائنَس کی گہا کے باہر پھیل کے آس پاس کے ٹشوز میں گھس جاتا۔ اِس کی وجہ سے آگے چل کے سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اِس قسم کا انفیکشن نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس سے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا، کیوں کہ اِس میں ٹشوز کو نقصان پہنچ سکنے کا خطرہ رہتا۔

 

وجہ

نان اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس، اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس میں تب بدل سکتا، جب سائنَس میں موجود فنگس ہمارے جسم کے امیون سسٹم کی بنائی ہوئی حفاظتی تہہ کو توڑ دیتا۔ ایسا زیادہ تر اُس وقت ہوتا، جب ہماری قوتِ مدافعت کمزور پڑ جاتی۔

 

اقسام

اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کی دو الگ الگ قسمیں رہتیں۔

  1. گرینولوماٹس اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس

  2. نان گرینولوماٹس اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس


فنگل انفیکشن کے اردگرد مدافعتی نظام کے خلیے جمع ہو کے گرینولوما بناتے۔ اِس کو گرینولوماٹَس فنگل سائنوسائٹس بولتے۔ اگر گرینولوما نہ بنیں تو اُس کو نان گرینولوماٹَس فنگل سائنوسائٹس بولتے۔ صحیح دوائیاں استعمال کرنے سے گرینولوماٹَس فنگل سائنوسائٹس میں، نان گرینولوماٹَس فنگل سائنوسائٹس کے مقابلے میں، مریض جلدی ٹھیک ہو جاتا۔


علامات

  • آنکھ، ناک، دانت یا گال میں درد اور/یا سوجن

  • نظر میں پریشانی — ایک چیز دو دکھنا یا نظر دھیرے دھیرے کم ہوتے جانا

  • انفیکشن جبڑے کی ہڈی تک پھیل جائے تو دانت ہلنے لگنا

  • گال میں سنسناہٹ محسوس نہ ہونا یا گال سن ہو جانا

  • انفیکشن جلد تک پھیل جائے تو چہرے پر سوجن آنا — یہ بہت کم ہوتا

  • انفیکشن دماغ تک پھیل جائے تو دماغ کے جس حصے پر اثر پڑتا، اُس حصے کے قابو میں رہنے والے جسم کے حصے پر بھی اثر پڑتا۔

 

تشخیص

اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کی تشخیص کرنا ای این ٹی ڈاکٹر کے لیے کافی مشکل رہتا۔ اِس کے لیے بایوپسی کرنا پڑتا، جس میں انفیکشن والے ٹشو کا تھوڑا سا حصہ نکال کے جانچ کے لیے لیب کو بھیجتے۔ بیماری کو ظاہر کرنے والے صحیح ٹشو کو پہچاننا اور پیتھالوجسٹ کو اُس کی جانچ کے لیے صحیح ہدایات دینا، یہی سب سے مشکل کام رہتا۔

 

علاج

گرینولوماٹَس یا نان گرینولوماٹَس اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کا علاج اینٹی فنگل دواؤں سے کیا جاتا۔ ڈاکٹر فنگس کے انفیکشن کو ختم کرنے کے واسطے اینٹی فنگل دوائیں دیتے۔ اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس میں ڈیبرائیڈمنٹ جیسی سرجری کرنے سے بچنا چاہیے۔

 


فلمننٹ فنگل سائنوسائٹس

اگرچہ فلمننٹ فنگل انفیکشن کو اِنویسیو سائنوسائٹس کی قسم میں شامل کر سکتے، کیونکہ اِس میں انفیکشن ٹشوز کے اندر تک پھیل جاتا، لیکن عام طور پر اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کا نام فلمننٹ کے علاوہ والی قسم کے لیے استعمال کرتے۔ یہ ایک جان لیوا بیماری ہے۔


فلمننٹ انفیکشن میں فنگس بہت تیزی سے پھیلتا۔ یہ صرف ٹشوز کے اندر ہی نئیں، بلکہ خون کے ذریعے بھی پھیل سکتا۔ فلمننٹ فنگل سائنوسائٹس، اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس سے بھی زیادہ نایاب ہے اور اُس کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کو دماغ تک پہنچنے اور مریض کی جان لینے میں کئی سال لگ سکتے، لیکن فلمننٹ فنگل سائنوسائٹس میں صرف چند ہفتے لگتے۔ دراصل، مریض کی قوتِ مدافعت کے حساب سے، اگر رگ کے ذریعے دی جانے والی طاقتور اینٹی فنگل دوائیں وقت پر نئیں دی گئیں، تو فنگس صرف چند گھنٹوں میں دوگنا ہو سکتا۔

 

اقسام

فُلمننٹ کو حملہ کرنے والے فنگس کی قسموں کے حساب سے الگ الگ بانٹ سکتے۔ یہ اِن کی وجہ سے ہو سکتا۔۔۔

  1. میوکر – میوکر مائیکوسس

  2. کینڈیڈا – کینڈیڈیاسس

  3. ایسپرجلوسس


حالانکہ میوکور کی وجہ سے ہونے والے تیزی سے پھیلنے والے انفیکشن کو عام طور پے بلیک فنگس بولتے،


وجہ

فلمیننٹ فنگل انفیکشن، فنگس کی قسم کوئی بھی ہو، اس قسم کا فنگل سائنوسائٹس تب ہی ہوتا جب ہمارے جسم کی قوتِ مدافعت بہت زیادہ کمزور ہو جاتی۔ اوپر بتائے گئے فنگس عام طور پر ہمارے آس پاس کے ماحول میں پائے جاتے، اور ہم ہر وقت اِن کے رابطے میں آتے رہتے۔ لیکن جب ہماری قوتِ مدافعت کو بہت بڑا دھچکا لگتا، تب ہی یہ فنگس ہم پر حملہ کر پاتے۔


وہ اہم وجوہات جو قوتِ مدافعت کو ایسا بڑا دھچکا دیتیں اور فلمیننٹ انفیکشن کا سبب بنتیں، یہ ہیں:

  • آرگن ٹرانسپلانٹ کے مریض جو امیونٹی دبانے والی دوائیاں لیتے

  • کینسر کے مریض جو کینسر کے علاج کی دوائیاں لیتے

  • امیون ڈیفیشنسی سنڈرومز، مثال کے طور پر ایڈز

  • وہ مریض جو مہینوں سے اسٹیرائڈز لیتے

  • شوگر کے مریض جن کی شوگر قابو میں نئیں رہتی

  • کووڈ ۱۹

 

علامات

اگرچہ فلمننٹ اِنویسیو فنگل سائنوسائٹس کی کئی علامات رہتیں، لیکن پہلی علامت سے ہی ہم یا ڈاکٹر آسانی سے اس کو پہچان سکتے۔ پہلی علامت ہے چہرے میں بہت شدید درد، جو درد کی گولیاں کھانے کے بعد بھی کم نئیں ہوتا۔ اس لیے، ہم کو چہرے میں بہت شدید درد محسوس ہو سکتا۔۔۔

  • گال

  • دانت

  • آنکھ

علامات کی دوسری لسٹ بعد میں آتی ہے۔

  • ناک بند ہونا

  • ناک سے پانی بہنا

  • ایک چیز کی دو تصویریں نظر آنا

  • نظر کمزور ہونا

  • آنکھ، ناک یا گال پر سوجن آنا

  • آنکھ سے پانی آنا

  • آنکھ لال ہونا

 

تشخیص

فلمیننٹ فنگل انفیکشن کی تشخیص ناک کی اینڈوسکوپی کے ذریعے کی جاتی، اُس کے بعد ناک میں ملنے والے مادّے کا کلچر اور بایوپسی کیا جاتا۔


پہلے بتائے حساب، چہرے میں شدید درد کی علامت دیکھ کر عموماً ای این ٹی ڈاکٹر کو اس انفیکشن کا شک ہوتا۔

 

علاج

فلمننٹ فنگل سائنوسائٹس کے علاج میں کئی طریقے اپنانے پڑتے۔ اس میں سرجری کے ذریعے بار بار خراب ہوئے ٹشو کو نکالنا (ڈیبرائیڈمنٹ) اور طاقتور اینٹی فنگل دوائیاں دینا شامل رہتا۔ مریض کی حالت کیسی ہے، اُس کے حساب سے علاج تیزی سے اور الگ الگ طریقے سے کیا جاتا۔


فلمننٹ فنگل سائنوسائٹس کا شک ہونے پر ہی، لیب کے رزلٹ آنے سے پہلے، آئی وی (IV) کے ذریعے طاقتور اینٹی فنگل دوائیاں شروع کرنا بہت ضروری رہتا۔ بیماری کی تصدیق ہونے تک دیر ہو گئی تو مریض کی جان پر بھی بن سکتی۔



 
 
 
  • Facebook
  • Instagram
  • LinkedIn
  • Youtube
¡REGÍSTRESE Y MANTÉNGASE ACTUALIZADO!
¡Gracias por enviar!

© 2021 - 2022 Anaghasri Technologies and Solutions Pvt. Ltda. Todos los derechos reservados.

Medyblog no proporciona asesoramiento médico, diagnóstico o tratamiento.

bottom of page